بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الاول 1448ھ 06 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کرنے کے بعد بغیر نیت عمرہ کےاحرام باندھ کر طواف کرنے اور حرم میں امام سے اگے ہوکر نماز پڑھنے کاحکم


سوال

ہم عمرہ کرنے جاتے  ہیں تو عمرہ کے ادائیگی کے بعد حلا ل ہوجاتے ہیں ،اور سلے ہوئے کپڑے پہن لیتے ہیں ،اب جب ان سلے ہوئے کپڑوں کے ساتھ  نفلی طواف کے لیے مطاف میں جاتے ہیں ،تو پو لیس والے نیچے مطاف میں جانے نہیں دیتے ہیں ،اور کہتے ہیں کہ چھت پر جاکر طواف کرو ،اور چھت پر طواف کرنا کمزوری کی وجہ سے ہمارے لیے ممکن نہیں ہے ،تو ہم عمرہ کے نیت کے بغیر احرام باندھ لیتے ہیں اور پھرنیچے مطاف میں جاکر نفلی  طواف کرلیتےہیں ،تو کیا شرعاً اس طرح کرنا جائز ہے ؟

دوسرا یہ کہ پہلے حرم کے اندر امام صاحب بیت اللہ کے دروازے کے سامنے کھڑے ہوکر امامت کراتےتھے لیکن اب امام صاحب وہاں کھڑے نہیں ہوتے ،اب صرف امام صاحب کی آواز آتی ہے  اس کی اواز سن کر لوگ اس کے اقتدا میں نماز اداکرتے ہیں ،لیکن مطاف میں بیت اللہ اور  مقتدی حضرات کے درمیان امام نہیں ہوتے بلکہ کسی اور جگہ پیچھے کھرے ہو کر امامت کراتے ہیں ،جس  سے مقتدی کا امام سے آگے ہونا لازم آتاہے ،حالانکہ علماء کرام بتاتے ہیں کہ اگر مقتدی امام سے اگے ہوگیا تو مقتدی کی نماز نہیں ہوگی  ،تو اس کاصحیح حل بتادیں ۔

جواب

1.صورتِ مسئولہ میں جب حکومت کی طرف سے صرف احرام والے حضرات کو بیت اللہ کے قریب طواف کرنے کی اجازت ہے،ان کے علاوہ لوگوں  کو بیت اللہ کے قریب نفلی طواف کرنے کی اجازت نہیں ،تو صرف اس وجہ سے بغیرنیتِ  عمرہ کے احرام باندھنا یامحض احرام کے چادرپہنناکہ بیت اللہ کے قریب  نفلی طواف کرسکوں،  حقیقت کے برخلاف  عمل ہے؛ لہذا اس عمل سے اجتناب کیاجائے،لیکن اگر کوئی شخص صرف احرام کی چادرپہن کر طواف کرے گا تو طواف ہوجائے گا۔

2 .واضح رہے کہ مسجدِ حرام میں  امام چار جہتوں میں سے جس جہت میں کھڑا ہو کر  نماز پڑھا رہا ہے، اس جہت میں اگر کوئی مقتدی امام سے اتنی مقدار آگے بڑھتا ہے کہ اس کی ایڑھی امام کی ایڑھی سے آگے ہوجائے اور وہ کعبہ سے امام کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوجائے تو ایسے مقتدی کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔اور وہ مقتدی جو امام کی جہت میں نہ ہوں، بلکہ دوسری جہات کی طرف ہوں، ان میں سے اگر کوئی مقتدی امام کی بہ نسبت کعبہ سے زیادہ قریب ہو تو ایسے مقتدی کی نماز صحیح اور درست ہے۔

آج کل ائمہ، حرمِ مکی میں بیت اللہ سے کافی فاصلے پر برآمدے میں مخصوص جگہ سے نماز  کی امامت کرتے ہیں؛ اور زائرین سمجھتے ہیں کہ ازدحام وغیرہ کی وجہ سے بوجہ عذر امام کے آگے بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے، حا لانکہ یہ بلکل غلط ہے ۔امام سے اگے کی سمت میں صف بندی کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ،ایسا کرنے والوں کی نماز درست نہیں ہوگی ۔مسجدِ حرام میں نماز ادا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اس بات کا اہتمام کرے  کہ جس جہت میں امام کھڑا ہو  اس جہت میں امام سے آگے نہ ہو، ورنہ نماز (خواہ پنج وقتہ ہو یا نمازِ جنازہ) ادا نہیں ہوگی، ازدحام وغیرہ کی وجہ سے بھی امام کی جانب آگے بڑھ کر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے :

"وهو لغة: مصدر أحرم إذا دخل في حرمة لا تنتهك ورجل حرام أي محرم كذا في الصحاح، وشرعا: الدخول في حرمات مخصوصة أي التزامها غير أنه لا يتحقق شرعا إلا بالنية مع الذكر أو الخصوصية، كذا في الفتح فهما شرطان في تحققه لا جزء ماهيته كما توهمه في البحر حيث عرفه بنية النسك من الحج والعمرة من الذكر أو الخصوصية نهر والمراد بالذكر التلبية ونحوها، و بالخصوصية ما يقوم مقامها من سوق الهدي أو تقليد البدن، فلا بد من التلبية أو ما يقوم مقامها فلو نوى ولم يلب أو بالعكس لا يصير محرما."

(کتاب الحج، فصل فی الاحرام وصفة المفرد، ج: 2، ص: 479، ط: سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :

"وإذا صلى الإمام في المسجد الحرام وتحلق الناس حول الكعبة وصلوا صلاة الإمام فمن كان منهم أقرب إلى الكعبة من الإمام جازت صلاته إذا لم يكن في جانب الإمام. كذا في الهداية".

(کتاب الصلاة، الباب الثالث، الفصل الثالث في استقبال القبلة، ج: 1، ص: 65، ط: دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے :

"(ويصح لو تحلقوا حولها، ولو كان بعضهم أقرب إليها من إمامه إن لم يكن جانبه)لتأخره حكما.

(قوله: إن لم يكن في جانبه) أما إذا كان أقرب إليها من الإمام في الجهة التي يصلي إليها الإمام، بأن كان متقدما على الإمام بحذائه فيكون ظهره إلى وجه الإمام، أو كان على يمين الإمام أو يساره متقدما عليه من تلك الجهة ويكون ظهره إلى الصفالذي مع الإمام ووجهه إلى الكعبة، فلا يصح اقتداؤه لأنه إذا كان متقدما عليه لا يكون تابعا له بدائع.(قوله لتأخره حكما) علة لصحة صلاة الأقرب إليها من إمامه إن لم يكن في جانب الإمام لأن التقدم إنما يظهر عند اتحاد الجهة فإذا لم تتحد لم يتحقق تقدمه على إمامه، والمانع من صحة الاقتداء هو التقدم، ولم يوجد."

(کتاب الصلاة، باب الصلاة في الكعبة، ج : 2، ص : 254، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100460

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں