
کن کن شرائط کے ساتھ بچوں کو مسجد لے آ سکتے ہیں؟ ہم غیر مسلم ملکوں میں رہتے ہیں بعض اوقات بچے شور مچاتے ہیں یا پیشاب کرلیتے ہیں۔
یہ بات مسلم ہے کہ بچوں کو مسجد میں لانے میں مسجد میں شور و شغب، گندگی، نمازیوں کی عبادت میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کے بچے کل کے نوجوان ہیں، اگر بچے ابتداء سے مسجد کے ماحول اور عبادت سے مانوس ہوجائیں گے تو بالغ ہونے کے بعد ان کے نمازوں کے پابند ہونے کی قوی امید کی جاسکتی ہے ، خصوصاغیر مسلم ممالک میں بچوں کے دین کی حفاظت کی خاطر انہیں اسلامی ماحول سے جوڑنے کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
لہذا ایسے بچے جو بالکل ناسمجھ نہ ہوں، ان کو مسجد میں لانے سے مسجد کے ناپاک ہونے کا غالب گمان نہ ہو، وہ مسجد اور غیر مسجد میں فرق کا سمجھتے ہوں تو ایسے بچوں کو سرپرستوں کی نگرانی میں مسجد میں لانے کی اجازت ہے۔
نیز والدین وغیرہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی اس انداز سے تربیت کریں کہ وہ مسجد کو اللہ تعالیٰ کا گھر سمجھیں اور اس کا احترام کریں۔
مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:
مساجد میں بچوں کو لانے کا حکم اور ان کو روکنے سے ممانعت کے ترغیبی پوسٹرز
الدر المختار میں ہے:
"ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره".
وفي الدر:
"(قوله ويحرم إلخ) لما أخرجه المنذري " مرفوعا «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم، وبيعكم وشراءكم، ورفع أصواتكم، وسل سيوفكم، وإقامة حدودكم، وجمروها في الجمع، واجعلوا على أبوابها المطاهر» " بحر... والمراد بالحرمة كراهة التحريم لظنية الدليل. وأما قوله تعالى - {أن طهرا بيتي للطائفين} [البقرة: 125]- الآية فيحتمل الطهارة من أعمال أهل الشرك تأمل؛ وعليه فقوله وإلا فيكره أي تنزيها تأمل".
وفي تقريرات الرافعي:
"(قول الشارح: وإلا فيكره) أي حيث لم يبالوا بمراعاة حق المسجد من مسح نخامة أو تفل في المسجد، وإلا فإذا كانوا مميزين ويعظمون المساجد بتعلم من وليهم فلا كراهة في دخولهم اه. سندي".
(کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، مطلب في أحكام المسجد، 1/ 656، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100439
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن