
ایک شخص کی میت کو ایک دوسرے شخص کی زمین میں، اس کی اجازت سے دفن کیا گیا تھا، اور زمین کے مالک کا ارادہ بھی یہ تھا کہ وہ اس زمین کو قبرستان کے لیے دے دے گا۔ لیکن اب زمین کا مالک مذکورہ زمین کو قبرستان کے طور پر وقف نہیں کرنا چاہتا، بلکہ اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانا چاہتا ہے۔ اس لیے میت کے بچوں نے ارادہ کیا ہے کہ اپنے والد کی میت کو اپنے آبائی خاندانی قبرستان میں منتقل کر دیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مذکورہ قبر کو دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر منتقل کرنا جائز ہو تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں جب زمین کے مالک کی اجازت سے میت کو دفن کیا گیا تھا تو اب میت کو مذکورہ قبر سے نکالنا ، اور آبائی قبرستان میں منتقل کرنا جائز نہیں ہے۔
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
"ولا يجوز نقله" أي الميت "بعد دفنه" بأن أهيل عليه التراب وأما قبله فيخرج "بالإجماع" بين أئمتنا طالت مدة دفنه أو قصرت للنهي عن نبشه والنبش حرام حقا لله تعالى "إلا أن تكون لأرض مغصوبة" فيخرج لحق صاحبها إن طلبه وإن شاء سواه بالأرض وانتفع بها زراعة أو غيرها "أو أخذت" الأرض "بالشفعة" بأن دفن بها بعد الشراء ثم أخذت بالشفعة لحق الشفيع فيتخير كما قلنا.
قوله: "للنهي عن نبشه" فلو دفن ولدها بغير بلدها وهي لا تصبر وأرادت نبشه ونقله إلى بلدها لا يباح لها ذلك فتجويز بعض المتأخرين لا يلتفت إليه ولا يباح نبشه بعد الدفن أصلا كذا في الفتح وغيره قوله: "إلا أن تكون الأرض مغصوبة" في المضمرات النقل بعد الدفن على ثلاثة أوجه في وجه يجوز باتفاق وفي وجه لا يجوز باتفاق وفي وجه اختلاف أما الأول فهو إذا دفن في أرض مغصوبة أو كفن في ثوب مغصوب ولم يرض صاحبه إلا بنقله عن ملكه أو نزع ثوبه جاز أن يخرج منه باتفاق وأما الثاني فكالأم إذا أرادت أن تنظر إلى وجه ولدها أو نقله إلى مقبرة أخرى لا يجوز باتفاق وأما الثالث إذا غلب الماء على القبر فقيل يجوز تحويله لما روي أن صالح بن عبيد الله رؤي في المنام وهو يقول حولوني عن قبري فقد آذاني الماء ثلاثا فنظروا فإذا شقه الذي يلي الماء قد أصابه الماء فأفتى ابن عباس رضي الله عنهما بتحويله."
(كتاب الصلاة، فصل في حملها ودفنها، ص: 614، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوى الأرض وزرع فيها، كذا في التجنيس.
(الباب الحادى والعشرون فى الجنائز، الفصل السادس في القبر والدفن والنقل من مكان إلى آخر، ج:1، ص:167، ط:رشيدية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100438
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن