
میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں، جس ادارے نے مجھے اس کمپنی میں لگایا ہے، انہوں نے اس کمپنی والوں سے طے کیا تھا کہ ہم آپ کے ملازم کو اپنے پاس رکھیں گے (کیونکہ کمپنی نئی تھی اس لیے ان کے پاس جگہ نہیں تھی )تو جو سہولیات ہم اس کو دیں گے اس کے بدلے میں ہم ان ملازم سے اپنا کام بھی لیں گے ، حالاں کہ اس کا مجھے کوئی علم نہیں تھا، جب میں کام کرنے لگا تو ادارے والوں نے مجھ سے اپنے ادارے کا کام لینا شروع کیا،میں نے ادارے والوں سے درخواست کی مجھے تو کمپنی میں رکھا گیا ہے۔ اس پر کہا گیا کہ ہم نے کمپنی سے اس کی اجازت لی ہے کہ وہ ہمارا کام بھی کرے گا، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا، پھر میں نے کہا کہ چلو میں آپ کا کام بھی کروں گا اور کمپنی کا کام بھی، لیکن ادارے کی طرف سے بھی میرے لیے کچھ نہ کچھ مقرر تو ہو، اس پر یہ جواب ملا کہ شریعت میں یہ نہیں ہے کہ ایک بندہ ایک ہی وقت میں دو اداروں کا ملازم ہو، پھر میں نے یہ کہا کہ چلو لیپ ٹاپ کا جو بھی کام ہو وہ میں کروں گا، لیکن آفس کے باہر والا کام نہیں کروں گا اس پر یہ جواب ملا کہ نہیں ادارہ جو بھی کام آپ سے لے گا وہ آپ کرو گے، ابھی میں بہت الجھن کا شکار ہوں، تو شریعت کی رو سے یہ معاملہ کیسا ہے؟ متبادل صورتیں کیا ہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں آپ کمپنی کے ہی ملازم ہیں، ادارے کا اضافی کام کرنا آپ کے ذمہ لازم نہیں ہے، البتہ اگر آپ چاہیں تو کمپنی سے اضافی تنخواہ کے بدلے یہ طے کرلیں کہ میں دونوں کا کام کروں گا تو پھر آپ کے ذمہ دونوں کا کام کرنا لازم ہوگا۔
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة ٤٢٣) كما جاز أن يكون مستأجر الأجير الخاص شخصا واحدا كذلك يجوز أن يكون الأشخاص المتعددة الذين هم في حكم شخص واحد مستأجري أجير خاص - بناء عليه لو استأجر أهل قرية راعيا على أن يكون مخصوصا بهم بعقد واحد."
(الكتاب الثانى في الإجارات، الباب الأول في بيان الضوابط العمومية، ص:82، ط:نور محمد)
فتاوی شامی میں ہے:
"وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:6، ص:70، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100435
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن