
ہمارے علاقے کے ایک شخص نے کئی سال ایک سرکاری دفتر میں رہ کر لوگوں سے ناجائز پیسے وصول کیے، کچھ لوگوں کی زمین بھی زبردستی حاصل رکھی تھی۔ ان پیسوں سے اس نے جمی (زمین) خریدی، ایک ٹرک کینا (خریدا) اور اسے ماہانہ (کرایہ پر) چلا کر خاصی آمدنی کی۔ اب وہ توبہ کرنا چاہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اصل حرام مال کا کیا کرے؟ اور اس مال سے جو کمائی ہوئی، وہ اس کے لیے حلال ہے یا حرام؟
1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کو سرکاری دفتر میں ملازمت کرتے ہوئے حرام مال اس طور پر حاصل ہوا ہو کہ اس نے لوگوں سے رشوت لی ہو، یا کسی کا مال غصب کیا ہو ، یا چوری کی ہو تو ان اموال کا حکم یہ ہے کہ یہ اموال ان کے اصل مالکان تک پہنچانا لازم ہیں، اگر اصل مالکان انتقال کرچکے ہوں تو ان کے ورثاء تک پہنچادیے جائیں ،اگر نہ اصل مالکان کا علم ہوسکے اور نہ ہی ان کے ورثاء کا علم ہو تو اس صورت میں یہ اموال مالکان کی جانب سے مستحقِ زکات افراد کو صدقہ کردیا جائے۔جب اصل سرمایہ مالک کو لوٹا دے گا تو پھراس کے بعد حاصل کردہ منافع اس کے لیے جائز ہوں گے؛ نیز اگر لوگوں سے زمین زبردستی حاصل کررکھی ہے تو اس زمین کو اصل مالکان کو واپس کرنا لازم ہے ، اس کا استعمال جائز نہیں ہے ۔
اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور تفصیل ہو تو وضاحت کے بعد دوبارہ دریافت کرلیں۔
الفقہ الإسلامی وأدلتہ للزحیلی میں ہے:
"1 - المال الحرام: هو كل مال حظر الشارع اقتناءه أو الانتفاع به سواء كان لحرمته لذاته، بما فيه من ضرر أو خبث كالميتة والخمر، أم لحرمته لغيره، لوقوع خلل في طريق اكتسابه، لأخذه من مالكه بغير إذنه كالغصب، أو لأخذه منه بأسلوب لا يقره الشرع ولو بالرضا كالربا والرشوة. 2 - أ) حائز المال الحرام لخلل في طريقة اكتسابه لا يملكه مهما طال الزمن، ويجب عليه رده إلى مالكه أو وارثه إن عرفه، فإن يئس من معرفته وجب عليه صرفه في وجوه الخير للتخلص منه وبقصد الصدقة عن صاحبه. ب) إذا أخذ المال أجرة عن عمل محرم فإن الآخذ يصرفه في وجوه الخير ولا يرده إلى من أخذه منه. ج) لا يرد المال الحرام إلى من أخذ منه إن كان مصراً على التعامل غير المشروع الذي أدى إلى حرمة المال كالفوائد الربوية، بل يصرف في وجوه الخير أيضاً. د) إذا تعذر رد المال الحرام بعينه وجب على حائزه رد مثله أو قيمته إلى صاحبه إن عرفه، وإلا صرف المثل أو القيمة في وجوه الخير وبقصد الصدقة عن صاحبه."
(زكاة المال الحرام، ج:10، ص:7945، ط: دار الفكر)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز، ثم إن كان غنياً تصدق بمثله، وإن كان فقيراً لا يتصدق."
(كتاب الغصب، ج:3، ص:61، ط: دار الفكر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالاً مختلطاً مجتمعاً من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئاً منه بعينه حل له حكماً، والأحسن ديانةً التنزه عنه."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، ج:5، ص:99، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالاً من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه... قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية... وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعاً للحرج عن الناس اهـ."
(باب المتفرقات من أبوابها، ج:5، ص:235، ط: سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"إذا تصرف في المغصوب وربح فهو على وجوه: إما أن يكون يتعين بالتعيين كالعروض أو لا يتعين كالنقدين، فإن كان مما يتعين لا يحل له التناول منه قبل ضمان القيمة وبعده يحل إلا فيما زاد على قدر القيمة وهو الربح... واختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام."
(كتاب الغصب، الباب الثامن في تملك الغاصب والانتفاع به، ج:5، ص:141، ط: دار الفكر)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
”جس قدر مال بطریقِ حرام کمایا، اس کی واپسی لازم ہے؛ اگر وہ شخص موجود نہ ہو جس سے مالِ حرام (مثلاً رشوت یا غصب) لیا ہو، مر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دیا جائے۔ ورثاء بھی موجود نہ ہوں، یا کوشش کے باوجود ان کا علم نہ ہو سکے تو غریبوں محتاجوں کو صدقہ کر دیا جائے، لیکن اس مال کے ذریعہ دوسرا حلال مال کمایا گیا تو اس کو حرام نہیں کیا جائے گا۔ کذا في رد المحتار۔“
(کتاب الحظر والاباحۃ، باب المال الحرام و مصرفہ، ج:18، ص:408، ط: ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100399
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن