بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الثانی 1448ھ 14 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں جھوٹی لاگت بتانے اور عیب چھپانے کا شرعی حکم


سوال

 میری عمر بائیس سال ہے، میں نے حال ہی میں چچا کی کپڑے کی دکان پر بیٹھنا شروع کیا ہے۔ چچا مجھے سکھاتے ہیں کہ گاہک کو ہمیشہ یہ بتانا کہ ”یہ تھان مجھے خود ہی اتنے میں پڑا ہے، آپ کو لاگت پر دے رہا ہوں“، حالانکہ اصل خرید قیمت اس سے بہت کم ہوتی ہے؛ اور مال میں کوئی عیب ہو تو اس کا ذکر نہ کرنا۔

 دل سے مجھے یہ بات پسند نہیں، مگر ابھی دکان چچا کے اختیار میں ہے اور میرے لیے دوسرا کوئی روزگار بھی مشکل ہے، میری نیت یہ ہے کہ جب دکان میرے اختیار میں ہو گی تو ہر لحاظ سے شریعت کا حکم مانوں گا۔ اب میرے لیے اس طرح جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟

جواب

جھوٹ بولنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، حدیثِ مبارکہ میں جھوٹ کو منافق کی علامت کہا گیا ہے، نیز ایک اور حدیث شریف کے مطابق سچائی کاروبار میں برکت کا باعث بنتی ہے اور جھوٹ کی وجہ سے کاروبار کی برکت ختم ہو جاتی ہے؛ لہٰذا سائل کے لیے اپنے چچا کے کہنے پر گاہک سے جھوٹ بولنا کہ آپ کو یہ کپڑا لاگت پر دے رہا ہوں حالانکہ نفع پر فروخت کر رہا ہو یا عیب چھپا کر فروخت کرنا جائز نہیں ، سائل خود بھی گاہک سے جھوٹ نہ بولے اور کوشش کرے کہ لاگت کی بات کیے بغیر ہی کپڑا فروخت کردے ، یعنی لاگت کی تفصیل ذکر کیے بغیر گاہک سے بھاؤتاؤ کر کے کہ اتنے میں آپ پر فروخت کرتا ہوں کپڑا بیچے ، نیز عیب دار چیز گاہک کے سامنے پیش ہی نہ کرے بلکہ عیب سے پاک کپڑا فروخت کرے تاکہ جھوٹ بولنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
نیز سائل کو چاہیے کہ چچا کو حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھائے، جھوٹ کے نقصانات اور سچ کے فوائد ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے بتائے اور ان کے لیے دعائیں بھی کرے کہ وہ اپنی اس عادت سے باز آجائیں ۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان."

(سورة المائدة، الآية:2)

صحیح البخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان."

(صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج:1، ص:16، رقم:33، ط:دار طوق النجاة)

صحیح البخاری میں ہے:

"عن حكيم بن حزام رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: البيعان بالخيار ما لم يتفرقا - أو قال: حتى يتفرقا - فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما."

(صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب إذا بين البيعان ولم يكتما ونصحا، ج:3، ص:58، رقم:2079، ط:دار طوق النجاة)

صحیح البخاری میں ہے:

"لو دخلوها ما خرجوا منها، إنما الطاعة في المعروف."

(صحيح البخاري، كتاب الأحكام، باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية، ج:9، ص:63، رقم:7145، ط:دار طوق النجاة)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني."

(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم "من غشنا فليس منا"، ج:1، ص:99، رقم:101، ط:دار إحياء التراث العربي)

صحیح مسلم میں ہے:

"البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وإن كذبا وكتما محقت بركة بيعهما."

(صحيح مسلم، كتاب البيوع، باب الصدق في البيع والبيان، ج:3، ص:1164، رقم:1532، ط:دار إحياء التراث العربي)

تبيين الحقائق ميں ہے:

"لا يحل له أن يبيع المعيب حتى يبين عيبه، لقوله عليه السلام: لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا وفيه عيب إلا بينه له، رواه ابن ماجه وأحمد بمعناه."

(تبيين الحقائق، كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:4، ص:31، ط:المطبعة الكبرى)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام، إذا باع سلعة معيبة عليه البيان."

(رد المحتار، كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:5، ص:47، ط:سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويضم) البائع (إلى رأس المال) (أجر القصار والصبغ) ... (ويقول: قام علي بكذا، ولا يقول: اشتريته)؛ لأنه كذب."

(رد المحتار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5، ص:135، ط:سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه، والمراد التعريض؛ لأن عين الكذب حرام."

(رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:427، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں