بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1448ھ 25 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

شراکت کے مالی اختلاف کو علماء کے بجائے پنچایت سے حل کرنے کا شرعی حکم


سوال

ہم چار شریک مل کر ایک چاول کی مل چلاتے ہیں۔ کاروبار شروع کرتے وقت ہم نے تحریری طور پر عہد کیا تھا کہ آپس کے مالی جھگڑے قرآن و سنت کی روشنی میں علماء کرام سے حل کرائیں گے، کسی اور کے پاس نہیں جائیں گے۔

اب منافع کی تقسیم پر اختلاف ہوا تو بڑا شریک کہتا ہے کہ عالموں کو کاروبار کی کیا سمجھ؟ ہم گاؤں کے مَاتُبَّر (معززین) اور مقامی نیتاؤں سے سالیش (پنچایت) کے ذریعے رواج کے مطابق فیصلہ کرائیں گے۔ اس بارے میں شریعت کی راہ نمائی کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر شرکاء نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہم آپس کے مالی جھگڑوں  کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں علماء سے حل کروائیں گے، اب اگر اس عہد سے رو گردانی کرتے ہوئے علماء کے بجائے گاؤں کے معززین اور پنچایت سے معاملہ حل کرواتے ہیں تو یہ طے کردہ معاہدہ کی خلاف ورزی  کے ساتھ ساتھ شرعا ناجائز ہے ۔ 

البتہ معززین سے فیصلہ کروانے کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر ان کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق ہوں اور ان میں کوئی غیر شرعی بات نہ ہو تو ان سے فیصلہ کروانا اور اس کے مطابق عمل کرنا جائز ہو گا، لیکن اگر ان کا فیصلہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہو یا شرع کے اصولوں سے ٹکراتا ہو تو ان سے فیصلہ کروانا بھی جائز نہیں ہو گا اور اس کے مطابق عمل کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔

نیز الحمدللہ اہل علم جس طرح عبادات کے مسائل بخوبی قرآن و سنت کی روشنی میں حل کرتے ہیں اسی طرح فقہ اسلامی میں معاملات کا بھی ایک بڑا وسیع باب ہے، اہل علم اور اہل افتاء قرآن و سنت کی روشنی میں فقہ اسلامی کے تحت مالی معاملات بخوبی جانتے بھی ہیں اور حل بھی کرتے ہیں۔ اس لیے مذکورہ شریک کا یہ کہنا کہ علمائے کرام کو کاروبار کی کیا سمجھ! ناواقفیت  پر مبنی ہے۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن علي رضي الله عنه قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية، وأمر عليهم رجلاً من الأنصار، وأمرهم أن يطيعوه، فغضب عليهم، وقال: أليس قد أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني؟ قالوا: بلى، قال: قد عزمت عليكم لما جمعتم حطباً وأوقدتم ناراً، ثم دخلتم فيها. فجمعوا حطباً، فأوقدوا، فلما هموا بالدخول، فقام ينظر بعضهم إلى بعض، قال بعضهم: إنما تبعنا النبي صلى الله عليه وسلم فراراً من النار، أفندخلها؟ فبينما هم كذلك إذ خمدت النار، وسكن غضبه، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «لو دخلوها ما خرجوا منها أبداً، إنما الطاعة في المعروف»."

(كتاب الأحكام، باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية، ج:6، ص:2612، ط: دار اليمامة - دمشق)

ترجمہ:

”نبی کریم ﷺ نے ایک جماعت روانہ فرمائی اور ان پر ایک انصاری شخص کو امیر مقرر کیا، اور صحابہ کو حکم دیا کہ اس کی اطاعت کریں۔ ایک موقع پر وہ امیر ان سے ناراض ہو گیا اور کہا: کیا نبی ﷺ نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرو اور آگ جلاؤ، پھر اس میں داخل ہو جاؤ! چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی، پھر جب داخل ہونے کا ارادہ کرنے لگے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، ان میں سے ایک نے کہا: ہم تو نبی ﷺ کی پیروی اس لیے کر رہے ہیں کہ جہنم کی آگ سے بچیں، تو کیا اب خود ہی اس میں داخل ہو جائیں؟ اسی دوران آگ بجھ گئی اور امیر کا غصہ بھی ختم ہو گیا۔ پھر جب یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے سامنے بیان کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ اس آگ میں داخل ہو جاتے تو کبھی بھی اس سے باہر نہ نکلتے، اطاعت صرف نیکی اور معروف کے کام میں ہوتی ہے۔“

السنن الکبریٰ للبیہقی میں ہے:

"عن قتادة عن أنس بن مالك قال: قلما خطبنا نبينا صلى الله عليه وسلم، أو قال: النبي صلى الله عليه وسلم، إلا قال في خطبته: «لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له»."

(باب ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات، ج:6، ص:471، رقم:12690، ط: دار الكتب)

ترجمہ:

”انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی ہمیں خطبہ دیتے تو فرماتے: جس میں امانت داری نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں، اور جس میں عہد کی پاس داری نہیں، اس کا کوئی دین نہیں۔“

صحیح البخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان»."

(باب علامة المنافق، ج:1، ص:16، رقم:33، ط: دار طوق النجاة)

ترجمہ:

”نبی کریم ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔“

الأشباہ والنظائر میں ہے:

"الخلف في الوعد حرام، كذا في أضحية الذخيرة."

(كتاب الحظر والإباحة، ص:247، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100396

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں