بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1448ھ 20 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر اسلامی ملک میں ملازمت کے لیے جانے کا حکم


سوال

میں ایک چارٹرڈ اکاونٹنٹ ہوں، اور اکاونٹنگ کے شعبے میں تعلیم حاصل کرچکاہوں۔اپنی تعلیم کے دورن تقریبا ساڑھے تین سال ایک بین الاقوامی ادارے میں عملی تربیت بھی حاصل کی ہے، اس وجہ سے میری قابلیت اور تجربہ کی قدر وقیمت پاکستان کی بنسبت بیرون ملک میں زیادہ ہے، اور مجھے اسلامی وغیر اسلامی دونوں ممالک میں ملازمت کے بہتر مواقع حاصل ہوسکتے ہیں، مثال کے طور پر جتنی آمدنی میں پاکستان میں چھ ماہ میں حاصل کرسکتا ہوں، اتنی آمدنی بعض اوقات بیرون ملک میں ایک ماہ میں حاصل ہوسکتی ہے۔ میرے ذہن میں اس حوالے سے شرعی اشکالات ہیں جن پر آپ حضرات سے راہ نمائی چاہتا ہوں کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے میرا اصل مقصد یہ ہے کہ میں اپنی زندگی اس انداز سے گزار سکوں کہ اللہ تعالی مجھ سے راضی ہو جائے اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے میں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہتا ہوں کہ آیا میرے لیے بیرون ملک جانا اس مقصد کے حصول میں زیادہ معاون ثابت ہوگا یا پاکستان میں رہ کر اپنے دینی و دنیاوی فرائض انجام دینا میرے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ اگر میں بہتر معاشی مواقع اور اہل و عیال کے لیے بہتر زندگی کے حصول کی غرض سے بیرون ملک ملازمت اختیار کروں اور اس کے ساتھ یہ نیت بھی رکھوں کہ جہاں بھی رہوں گا انشاءاللہ اپنی استطاعت کے مطابق دین کی دعوت بھی دیتا رہوں گا، اور لوگوں کو دین کے قریب کرنے کی کوشش بھی کروں گا، تو اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
کیا صرف بہتر معاشی مواقع کی وجہ سے اسلامی یا غیر اسلامی ممالک میں ملازمت کے لیے جانا شرعا درست ہے؟ اگر اس کے ساتھ دعوت دین اور دین کی خدمت کی نیت بھی شامل ہو تو کیا اس نیت کی وجہ سے میرے اس سفر اور قیام پر اجر و ثواب کی امید رکھی جا سکتی ہے؟
ایسے حالات میں میرا بیرون ملک جانا زیادہ بہتر ہے یا پاکستان میں رہنا بہتر ہے؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ حلال رزق کمانا عبادت کے درجے میں ہے، نیز شریعت مطھرہ نے حلال کمائی کو فریضہ قرار دیا ہے،اور حلال کمائی کے لیے انسان جو جائز طریقہ اختیار کرنا چاہے کرسکتا ہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی قابلیت اور تجربہ کی قدر وقیمت پاکستان کی بنسبت بیرون ملک میں زیادہ ہے،اور بیرون ملک میں بنسبت پاکستان کے زیادہ کمائی حاصل ہوسکتی ہے، تو بہتر معاشی مواقع اور اہل و عیال کے لیے بہتر زندگی کے حصول کی غرض سے سائل بیرون ملک (اسلامی وغیر اسلامی) میں ملازمت اختیار کرسکتا ہے، بشرطیکہ سائل کو اپنے دین وایمان کی حفاظت کا مکمل یقین ہو،اگر غیر اسلامی ملک میں ملازمت اختیار کرنے میں دین وایمان کے غیر محفوظ ہونے کا اندیشہ ہو، تو اس صورت میں غیر اسلامی ملک میں ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں ہوگا۔نیز محض شوقیانہ طور پر اور دار الحرب کی شناخت اور قومیت کو افضل سمجھتے ہوئے دار الاسلام پر ترجیح دے کر وہاں رہائش اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز اگر بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے کے ساتھ ساتھ دعوت دین اور دین کی خدمت کی نیت بھی شامل ہو، تو امید ہے کہ اللہ تعالی اس پر اجر عطاء فرمائیں گے۔

نیز سائل کو چاہیے کہ وہ استخارہ کرے کہ آیا اس کے لیے پاکستان میں رہنا زیادہ بہتر ہے یا بیرون ملک ملازمت اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے، استخارہ کرنے کے بعد جس طرف سائل کا دل مائل ہو اسی پر عمل کرے۔

استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دن رات میں کسی بھی وقت بشرطیکہ وہ نفل کی ادائیگی کا مکروہ وقت نہ ہودو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں،نیت یہ کرے کہ میرے سامنے یہ معاملہ یا مسئلہ ہے ، اس میں جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو ، اللہ تعالی اس کا فیصلہ فرمادیں ۔ سلام پھیر کر نماز کے بعد استخارہ کی مسنون دعا مانگیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے، استخارہ کی مسنون دعا:

'' اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللّٰهُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّيْ فِيْ دِیْنِيْ وَ مَعَاشِيْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِيْ وَ عَاجِلِه وَ اٰجِلِه، فَاقْدِرْهُ لِيْ، وَ یَسِّرْهُ لِيْ، ثُمَّ بَارِکْ لِيْ فِیْهِ، وَ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّيْ فِيْ دِیْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِيْ وَ عَاجِلِه وَ اٰجِلِه، فَاصْرِفْهُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ، وَاقْدِرْ لِيَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ أَرْضِنِيْ بِه".

 دعاکرتے وقت جب "هذا الأمر" پر پہنچے تو اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنی "هذا الأمر" کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلاً "هذا السفر" یا "هذا النکاح" یا "هذه التجارة"یا "هذا البیع" کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو "هذا الأمر" کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے اور دھیان دے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے ۔

استخارے کے بعد  جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرے۔ اگر ایک دفعہ میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہو تو سات دن تک یہی عمل دہرائے، ان شاء اللہ خیر ہوگی۔استخارہ کے لیے کوئی وقت خاص نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ رات میں سونے سے پہلے جب یکسوئی کا ماحول ہو تو استخارہ کرکے سوجائے، لیکن خواب آنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اصل بات قلبی رجحان اور اطمینان ہے۔

ابو داود شریف میں ہے:

"عن سمرة بن جندب: أما بعد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من جامع المشرك وسكن معه فإنه مثله".

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہے تو وہ اسی کے مثل ہے“۔

 (كتاب الجهاد، باب في الإقامة بأرض الشرك، ج:4، ص:413، ط:دار الرسالة العالمية)

بخاری شریف میں ہے:

"عن عمر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:إنما الأعمال بالنيات وإِنما لكل امرئ ما نوى."

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی ہو“۔

(المقدمة، ص:5، ط:دار اليمامة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وهو أنواع) فرض وهو الكسب بقدر الكفاية لنفسه وعياله وقضاء ديونه ونفقة من يجب عليه نفقته فإن ترك
الاكتساب بعد ذلك وسعه وإن اكتسب ما يدخره لنفسه وعياله فهو في سعة فقد صح أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم ادخر قوت عياله سنة كذا في خزانة المفتين......ومستحب وهو الزيادة على ذلك ليواسي به فقيرا أو يجازي به قريبا فإنه أفضل من التخلي لنفل العبادة.ومباح وهو الزيادة للزيادةوالتجمل. ومكروه وهو الجمع للتفاخر والتكاثر وإن كان من حل كذا في خزانة المفتين.

(كتاب الكراهية، الباب الخامس عشر في الكسب، ج:5، ص:348، ط:دار الفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100387

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں