
زید کی زوجہ بتاتی ہے کہ زید نے درج ذیل جملے کہے ہیں:
۲۰۱۵ میں میں نے اس سے کہا کہ سگریٹ چھوڑ دو، یہ حرام ہے۔ اس نے کہا: "جاؤ واپس اپنے باپ کے پاس، میں ٹکٹ بک کر دوں گا، جاؤ سعودی واپس۔"
۲۰۱۹ء میں: جب میں نے اسے سگریٹ پینے سے منع کیا، تو اس نے سوٹ کیس نکال کر کہا: "جاؤ، نکلو گھر سے، جاؤ اپنے باپ کے پاس۔"
۲۰۲۴ء میں: زید نے مجھے "طل" کہا (مکمل لفظِ طلاق نہیں کہا) اور اس کے بعد کہا: "جاؤ، کور (Cover) کرو، میں غیر ہوں۔"
۲۰۲۶ء میں: ایک لڑائی کے بعد کہا: "جاؤ، سر پر اوڑھ کر آؤ، غیر مرد کے ساتھ ایسے مت آؤ۔"
۲۰۲۶ء میں: جب زید کی زوجہ ایئرپورٹ پر تھی اور زید کو چھوڑ کر جا رہی تھی، تو زید نے کہا: "میں تم کو نہیں جانتا، میرے اور تمہارے بیچ اب کچھ بھی نہیں ہے۔"
۲۰۱۵ء سے ۲۰۲۶ء تک دونوں ایک ساتھ رہ رہے تھے۔ ایئرپورٹ کے واقعے کے بعد زوجہ، زید کے گھر واپس نہیں گئی۔
زید کا کہنا ہے کہ اسے یاد نہیں ہے کہ اس نے یہ جملے کہے ہیں یا نہیں، لیکن اس کا ہرگز طلاق کا ارادہ نہیں تھا۔ نیز اہلیہ نے ایک مرتبہ لڑائی کے بعد غصے سے دوپٹہ اوڑھ لیا تھا، تو شاید زید نے بعد میں اوڑھنے کی بات اس لیے کہی تھی کیونکہ زوجہ نے اس سے پہلے ایسا کیا تھا۔
نیز، ۲۰۱۹ء سے زید Adderall کی (Addiction) کا شکار ہے، جس کے منفی اثرات میں شدید غصہ اور ہیلوسینیشنز (Hallucinations - یعنی ایسی چیزوں پر یقین کرنا، دیکھنا یا سننا جو حقیقت میں نہ ہوں) شامل ہیں۔
کیا ان جملوں میں سے کسی بھی جملے سے طلاق واقع ہوئی ہے؟ اگر ہوئی ہے، تو وہ طلاقِ رجعی ہے یا بائن؟ اور کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں زید نے اپنی زوجہ کو 2024 میں جو "طل" کہا، طلاق کا لفظ مکمل نہیں کیا تو اس سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ اس کے علاوہ جو الفاظ سوال میں لکھے گئے ہیں، کہ: "جاؤ، کور (Cover) کرو، میں غیر ہوں۔"، یا اس کے علاوہ مختلف مواقع پر جب یہ الفاظ کہے کہ "جاؤ واپس اپنے باپ کے پاس، میں ٹکٹ بک کر دوں گا، جاؤ سعودی واپس۔"جاؤ، نکلو گھر سے، جاؤ اپنے باپ کے پاس۔"،"جاؤ، سر پر اوڑھ کر آؤ، غیر مرد کے ساتھ ایسے مت آؤ۔"، "میں تم کو نہیں جانتا، میرے اور تمہارے بیچ اب کچھ بھی نہیں ہے۔"، اگر مذکورہ الفاظ کہتے وقت زید نے طلاق کی نیت کی تھی، تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی،نکاح ختم ہو جائے گا اور شوہر کے لیےمطلقہ بیوی سے رجوع کرنا جائز نہیں ہو گا، البتہ دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لیے نیا مہر مقرر کر کے باہمی رضامندی سے تجدید نکاح کرنا ضروری ہو گا۔
اور اگر مذکورہ الفاظ کہتے وقت طلاق کی نیت نہیں تھی، تو پھر بیوی پر مذکورہ بالا الفاظ سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا وفي غيرها إطلاقا، فلذا كان أنت مطلقة بالسكون كناية وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق، فخرج الفسوخ كخيار، عتق وبلوغ وردة فإنه فسخ لا طلاق، وبهذا علم أن عبارة الكنز والملتقى منقوضة طردا وعكسا بحر
(قوله هو ما اشتمل على الطلاق) أي على مادة ط ل ق صريحا، مثل أنت طالق، أو كناية كمطلقة بالتخفيف وكأنت ط ل ق وغيرهما كقول القاضي فرقت بينهما عند إباء الزوج الإسلام والعنة واللعان وسائر الكنايات المفيدة للرجعة والبينونة ولفظ الخلع فتح، لكن قوله وغيرهما أي غير الصريح والكناية يفيد أن قول القاضي فرقت، والكنايات ولفظ الخلع مما اشتمل على مادة ط ل ق وليس كذلك، فالمناسب عطفه على ما اشتمل والضمير عائد على ما وثناه نظرا للمعنى لأنه واقع على الصريح والكناية".
(کتاب الطلاق، ج:3، نص:226، ط:سعید)
فتاوى ہندیہ میں ہے:
"الفصل الخامس في الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام ،والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون وهي لا سبيل لي عليك لا ملك لي عليك خليت سبيلك فارقتك ولا رواية في خرجت من ملكي قالوا هو بمنزلة خليت سبيلك وفي الينابيع ألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بالخمسة ستة أخرى وهي الأربعة المتقدمة وزاد خالعتك والحقي بأهلك هكذا في غاية السروجي."
(کتاب الطلاق،الفصل الخامس في الكنايات ،ج:1،ص:374،ط:دار الفکر)
وفیہ ایضاً:
"ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوى."
(كتاب الطلاق، الباب الثاني في ايقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج:1، ص:375، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100384
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن