
ہم پانچ بھائی ہیں۔ ہمارے سب سے بڑے بھائی محمد رمضان صاحب تقریباً 1980ء کی دہائی میں سب سے پہلے محنت مزدوری کے لیے گاؤں، ڈیرہ اسماعیل خان، سے کراچی آئے۔
اس وقت والد صاحب بھی اپنی اونٹنی کے ذریعے بھاڑے کا کام کرتے تھے، جبکہ دوسرے چھوٹے بھائی گھر کے کام کاج، جیسے کھیتی باڑی اور جانوروں کی دیکھ بھال، کرتے تھے۔
بڑے بھائی کراچی سے گھر کے لیے خرچہ بھیجتے تھے، درمیان درمیان میں گاؤں جاتے، وہاں کھیتی باڑی کا کام کرتے، پھر واپس کراچی آجاتے۔
اس دوران اپنی محنت سے انہوں نے قائد آباد، کراچی کے ایک بازار میں تقریباً آٹھ فٹ کے لگ بھگ ایک جگہ خریدی، جہاں انہوں نے ٹھیلا لگا کر کاروبار شروع کیا۔
پھر کچھ عرصے کے بعد عبدالرحمن بھائی، اور ان کے چند سال بعد مہربان بھائی بھی کراچی آکر محنت مزدوری کرنے لگے۔
ادھر گاؤں میں چونکہ زمین میں کاشت کاری اور مال مویشی کی دیکھ بھال کے لیے مستقل طور پر گھر میں ایک بندے کے رہنے کی ضرورت تھی، اس لیے کچھ سالوں کے بعد رمضان بھائی وہ ٹھیلا چھوٹے بھائیوں کے حوالے کرکے خود گاؤں چلے گئے۔ مال مویشی اور کھیتی باڑی کی آمدنی سے، نیز کراچی سے جو پیسے آتے تھے، ان سے گھر کا نظام چلتا رہا۔ بہنوں اور سب بھائیوں کی شادیاں ہوئیں، گاؤں کی طرف کچھ زمین خریدی گئی، جبکہ یہاں کراچی میں اسی بازار میں مزید دو جگہیں خریدی گئیں۔
واضح رہے کہ یہ دونوں جگہیں مشترکہ آمدنی سے خریدی گئی تھیں۔ اس طرح، پہلی والی ٹھیلے کی جگہ، جو بڑے بھائی نے خریدی تھی، اور مزید دو جگہوں کو ملا کر اس بازار میں مجموعی طور پر تقریباً سات یا آٹھ فٹ کی چار دکانیں بن گئیں۔
اس پورے عرصے میں ہم سب بھائی جو جوائنٹ فیملی سسٹم کے مطابق ایک ساتھ رہ رہے تھے، والدین حیات تھے۔ ہمارا کھانا پینا، خوشی غمی، نفع و نقصان، کام اور کاروبار سب مشترک تھا۔ مذکورہ جگہ سمیت کسی چیز میں الگ ملکیت کا کوئی تصور نہیں تھا، بلکہ عملی طور پر سب دکانیں وغیرہ باہم مشترک تھیں۔ نہ ہی کسی بھائی کی طرف سے اس پورے عرصے میں الگ ملکیت کا کوئی دعویٰ یا اظہار ہوا۔ الگ ہونے سے کئی سال پہلے سے ہی سب بھائی برسرِ روزگار تھے۔
پھر یہ مشترکہ نظام ختم کرکے ہم سب بھائی علیحدہ ہوگئے اور دکانیں، زمین وغیرہ تمام چیزیں آپس میں تقسیم کرلی گئیں۔
تقسیم کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ ہم سب بھائی مل بیٹھے، مشترکہ آمدنی سے خریدی گئی زمین، اسی مشترکہ مال سے بنوائے گئے زیورات جو ہماری بیویوں کو بطورِ استعمال دیے گئے تھے، اور کراچی میں موجود دکانوں کو، اس دکان کو بھی شامل کرکے جو بڑے بھائی نے اپنی مزدوری سے خریدی تھی، ان سب کا حساب کیا۔
پھر باہمی صلح اور رضامندی سے رہائشی گھر سمیت مذکورہ تمام چیزوں کو علاقائی رواج کے مطابق برابر پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
اس پر تمام بھائیوں نے رضامندی کا اظہار و اقرار کیا، اور اس کے بعد ہر بھائی نے اپنے حصے پر مالکانہ قبضہ کرلیا۔
ہم بھائیوں کے درمیان علیحدگی اور جائیداد کی تقسیم کا یہ عمل 2011ء میں ہوا۔ ہماری علیحدگی کے بعد 2012ء میں والد صاحب کا انتقال ہوا، اور پھر 2015ء میں والدہ صاحبہ بھی وفات پاگئیں۔ (اللہ تعالیٰ دونوں کی کامل مغفرت فرمائے، آمین۔)
اب 2026ء میں بڑے بھائی کا کہنا یہ ہے کہ جو دکان کی جگہ انہوں نے اپنی مزدوری سے خریدی تھی، جسے دوسری چیزوں کے ساتھ ہم نے سب بھائیوں کے درمیان تقسیم کردیا، اس میں ان کے بھائیوں کا حصہ نہیں بنتا تھا، لیکن اس وقت انہیں اس کا علم نہیں تھا۔ ان کا گمان یہ تھا کہ اس میں بھی بھائیوں کا حصہ بنتا ہے۔ بعد میں انہوں نے بعض علماء سے سنا کہ اس میں دوسرے بھائیوں کا حصہ نہیں بنتا تھا۔
1۔ کیا وہ جگہ صرف بڑے بھائی کی ملکیت ہے اور اس میں دوسرے بھائیوں کا حصہ نہیں بنتا؟
2۔ جب وہ جگہ مذکورہ طریقۂ کار کے مطابق باہمی صلح سے تقسیم کردی گئی، تو اب کیا حکم ہے؟ کیا بڑا بھائی وہ جگہ دوسرے بھائیوں سے واپس لے سکتا ہے؟
(1) صورتِ مسئولہ میں مذکورہ جگہ تمام بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تھی، صرف بڑے بھائی کی ملکیت نہیں تھی۔
(2، 3) جب ایک مرتبہ تمام بھائیوں نے باہمی رضامندی سے مذکورہ جگہ کی تقسیم پر صلح کرلی اور ہر بھائی نے اپنے اپنے مقررہ حصے پر قبضہ بھی کرلیا، تو اب کسی فریق کو اس صلح کو توڑنے یا اس سے رجوع کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا بڑے بھائی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے بھائیوں سے ان کے حصے واپس لے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.
فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها،"
(كتاب الشركة،صل في الشركة الفاسدة،ج:4،ص:325،ط: سعيد)
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:
"قالوا: إذا تم الصلح على الوجه المطلوب دخل بدل الصلح في ملك المدعي، و سقطت دعواه المصالح عنها، فلايقبل منه الادعاء بها ثانيًا، و لايملك المدعى عليه استرداد بدل الصلح الذي دفعه للمدعي.
و جاء في م (1556) من مجلة الأحكام العدلية: إذا تم الصلح فليس لواحد من الطرفين - فقط - الرجوع، و يملك المدعي بالصلح بدله، و لايبقى له حق في الدعوى، و ليس للمدعى عليه - أيضًا - استرداد بدل الصلح.
و أصل ذلك: أن الصلح من العقود اللازمة، فلذلك لايملك أحد العاقدين فسخه، أو الرجوع عنه بعد تمامه. أما إذا لم يتم فلا حكم له ولا أثر يترتب عليه»."
(الصلح، آثار الصلح،ج: 27،ص:355، ط: دارالسلاسل)
مجلة الأحكام العدلية میں ہے:
"«الفصل الأول في بيان المسائل المتعلقة بأحكام الصلح
المادة (1556) إذا تم الصلح فليس لواحد من الطرفين فقط الرجوع»."
(الكتاب الثاني عشر الصلح والإبراء، الباب الرابع في بيان الصلح والإبراء، ص:303، ط: نور محمد، كراچي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100382
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن