
اگر حرام آمدنی والا یا باطل عقائدوالا قربانی کے حصہ داروں میں شامل ہو جاۓ تو سب کی قربانی باطل ہو جائے گی، لیکن اس جانور کے گوشت کا کیا حکم ہے وہ حلال ہے یا حرام ہو گا؟
صورت مسئولہ میں جب حرام آمدنی والاحرام آمدنی کے ساتھ یا باطل اور کفریہ عقائدوالا شخص قربانی کے حصہ داروں میں شامل ہو گیا ہے تو اس کی وجہ سےتمام شرکاء کی قربانی باطل ہو گئی ہے ، اور تمام شرکاء کے لیے جانور کا گوشت استعمال کرنا درست نہیں ، بلکہ صدقہ کرنا لازم ہے ۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"ولو كان أحد الشركاء ذميا كتابيا أو غير كتابي وهو يريد اللحم أو يريد القربة في دينه لم يجزئهم عندنا؛ لأن الكافر لا يتحقق منه القربة، فكانت نيته ملحقة بالعدم، فكأن يريد اللحم والمسلم لو أراد اللحم لا يجوز عندنا، وكذلك إذا كان أحدهم عبدا أو مدبرا ويريد أضحية، كذا في البدائع."
(كتاب الأضحية،الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا،ج: 5،ص: 304 ،ط: رشيديه )
فتاویٰ شامی میں ہے :
"(وإن) (كان شريك الستة نصرانيا أو مريدا اللحم) (لم يجز عن واحد) منهم لأن الإراقة لا تتجزأ هداية لما مر. (قوله وإن كان شريك الستة نصرانيا إلخ) وكذا إذا كان عبدا أو مدبرا يريد الأضحية لأن نيته باطلة لأنه ليس من أهل هذه القربة فكان نصيبه لحما فمنع الجواز أصلا بدائع. [تنبيه] قد علم أن الشرط قصد القربة من الكل، وشمل ما لو كان أحدهم مريدا للأضحية عن عامه وأصحابه عن الماضي تجوز الأضحية عنه ونية أصحابه باطلةوصاروا متطوعين، وعليهم التصدق بلحمها وعلى الواحد أيضا لأن نصيبه شائع كما في الخانية، وظاهره عدم جواز الأكل منها تأمل."
(كتاب الأضحية، ج: 6، ص: 326، ط: سعيد )
احسن الفتاویٰ میں ہے :
سوال : ایک گائے میں بینک یا انشورنس کا ملازم یا کوئی بھی ایسا شخص شریک ہو کہ اس کی کل یا اکثر آمدن حرام ہو، اس کی شرکت سے دوسرے شرکاء کی قربانی پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں ؟
جواب :اس صورت میں کسی کی قربانی بھی صحیح نہیں ہو گئی ۔
(کتاب الاضحیۃ، والعقیقۃ، ج: 7، ص: 503 ، ط: سعید )
فتاوی ٰرحیمیہ میں ہے :
”(سوال ۷) بڑے جانور میں سات شرکاء میں سے ایک شریک سال رواں کی قربانی کی نیت کرے اور بقیہ شرکاء گذشتہ سال کی قضاء کی نیت کریں تو کیا حکم ہے؟
(الجواب) صورت مسئولہ میں سال رواں کی نیت سے قربانی کرنے والے کی قربانی درست ہے اور دوسروں کی درست نہیں ہے۔ گذشتہ برس کی قربانی اس سال ادا نہ ہوگی یہ نفل قربانی ہوگی اور سب گوشت صدقہ کر دے۔“
" وشمل ما لو كان أحدهم مريدا للأضحية عن عامه وأصحابه عن الماضي تجوز الأضحية عنه ونية أصحابه باطلة وصاروا متطوعين، وعليهم التصدق بلحمها وعلى الواحد أيضا لأن نصيبه شائع."
(کتاب الاضحیۃ، ج: 10 ، ص: 26 ، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100361
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن