
میرے والد کے پاس ایک جائیداد ہے، جس کی سرکاری قیمت تقریباً 80 لاکھ روپے، جبکہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔ ہم کل 6 بہن بھائی ہیں، جن میں 5 بہنیں اور 1 بھائی ہے۔
میرے والد نے مذکورہ جائیداد میں میرے حصے کے 25 فیصد حصے کو میری اہلیہ کے حقِ مہر کے طور پر لکھ دیا ہے۔ اب میری اہلیہ اپنے حقِ مہر کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
الحمدللہ، میرے والد اور والدہ دونوں حیات ہیں، تاہم والد صاحب مذکورہ جائیداد تقسیم نہیں کرنا چاہتے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ میرے حصے میں سے میری اہلیہ کے حق مہر کے طور پر کتنا حصہ بنتا ہے؟نیز یہ بھی بتائیں کہ مستقبل میں اس جائیداد کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی، جبکہ ہم کل 8 افراد ہیں اور الحمدللہ سب حیات ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے جو مہر مقرر کیا ہے، وہ صحیح ہے۔ لہٰذا سائل کی بیوی کے مہر کی تعیین کا طریقہ یہ ہوگا کہ والد صاحب کو مرحوم فرض کرکے مذکورہ مکان کی موجوده قيمت 2 كروڑ 50 لاكھ روپے کو 8 حصوں میں تقسیم كركے ، ايك حصہ والده كو ،دو حصے سائل کو اور ایک ، ایک حصہ ہر ایک بیٹی کا قرار دیا جائےگا۔ پھر سائل کے حصے کا 25 فیصد نکال کر مہر کے طور پر سائل کی بیوی کو دیا جائے گا،اب چاہے مذکورہ 25 فیصد حصہ سائل خود ادا کرے، یا سائل کے والد ضامن ہونے کی بنیاد پر ادا کریں، بهر صورت مہر ادا ہوجائے گا۔پس 2 کروڑ 50 لاکھ روپے میں سے 62 لاکھ 50 ہزار روپے سائل کا حصہ بنتا ہے ، اس ميں 25 فیصد 1562500 روپے بنیں گے۔
نیز مستقبل میں جائیداد کی تقسیم ورثاء کی تعداد اور ان کی مکمل تفصیل کے مطابق ہوگی، لہٰذا اس وقت کسی مستند دارالافتاء سے مسئلہ معلوم کر لیا جائے۔
المحيط البرهاني ميں هے:
"وفي (المنتقى) : أيضاً عن أبي حنيفة رحمه الله: إذا تزوجها بنصيبه من هذه الدار، فلها الخيار إن شاءت أخذت النصيب، وإن شاءت أخذت مهر المثل لا يجاوزنه قيمة الدار."
(کتاب النکاح، الفصل السادس عشر في المهور، ج:3، ص:89، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" وفي المنتقى قال محمد قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى -: إذا تزوج امرأة على ما له من الحق في هذه الدار قال: أفرض لها مهر المثل لا أجاوز به قيمة الدار وفي قولنا لها ما كان له من الحق في الدار لا غير وقال: لها مهر المثل لا غير إذا بلغ ذلك عشرة، كذا في المحيط ولو تزوج على نصيبه من هذه الدار قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - لها الخيار إن شاءت أخذت النصيب، وإن شاءت أخذت مهر مثلها لا يزاد على قيمة الدار، وإن كان مهر مثلها أكثر وعلى قول صاحبيه - رحمهما الله تعالى - لها النصيب من الدار إن كان النصيب يساوي عشرة دراهم، كذا في فتاوى قاضي خان"
(کتاب النکاح، باب المهر،الفصل الأول في بيان مقدار المهر، ج:1، ص:310، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
(وصح ضمان الولي مهرها ولو) المرأة (صغيرة) ولو عاقدا لأنه سفير، لكن بشرط صحته؛ فلو في مرض موته وهو وارثه لم يصح، وإلا صح من الثلث، وقبول المرأة أو غيرها في مجلس الضمان (وتطلب أيا شاءت) من زوجها البالغ، أو الولي الضامن (فإن أدى رجع على الزوج إن أمر) كما هو حكم الكفالة
(قوله وصح ضمان الولي مهرها) أي سواء ولي الزوج أو الزوجة صغيرين كانا أو كبيرين، أما ضمان ولي الكبير منهما فظاهر لأنه كالأجنبي. ثم إن كان بأمره رجع وإلا لا."
(کتاب النکاح، باب المهر، ج:3، ص:140، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100357
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن