
میں نے تقریباً 14 سال قبل اپنی مشترک دکان میں سے اپنے ذاتی حصہ کا 20 فیصد حصہ اپنے بھائی کے نام ہبہ کیا تھا، اور 5 سال قبل اس 20 فیصد کا انتقال بھی میں نے بھائی کے نام کیا۔ لیکن مذکورہ حصہ آج تک میں نے اپنے بھائی کے حوالے نہیں کیا، بلکہ پوری دکان بدستور میرے قبضہ و تصرف میں ہے۔ اب میں بعض وجوہات کی بنا پر مذکورہ ہبہ سے رجوع کرنا چاہتا ہوں تو کیا مذکورہ صورت میں ہبہ مکمل ہوا ہے؟ اور کیا میرا اس ہبہ سے رجوع کرنا شرعاً جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر یہ دکان قابل تقسیم تھی تو تقسیم کیے بغیر ہبہ کرنا شرعاً درست نہیں تھا، اور اگر ناقابل تقسیم تھی تو قبضہ نہ دینے کی وجہ سے ہبہ مکمل نہیں ہوا، لہذا دونوں صورتوں میں یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا، ہبہ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سائل بدستور مذکورہ دکان کا تنہا مالک ہے، البتہ قانونی طور پر چوں کہ انتقال دیا جا چکا ہے، لہذا رجوع کرکے قانونی طور پر بھی 20 فیصد حصہ اپنے نام کرا لیا جائے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم."
(كتاب الهبة، فصل في شرائط ركن الهبة، ج:6، ص:119، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل....(في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي."
(كتاب الهبة، ج:5، ص:690۔692، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100329
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن