بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ بولنا کس وقت صحیح ہے؟


سوال

کسی وقت جھوٹ بولنا صحيح  ہے ؟

جواب

جھوٹ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، جس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اور جھوٹ بولنے کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی نشانی اور علامت قرار دیا ہے، البتہ اگر کہیں شدید نوعیت کا جھگڑا ہو یا میاں بیوی کے درمیان اس حد تک غلط فہمیاں ہو گئی ہوں کہ گھر ٹوٹنے کا اندیشہ ہو اور کوئی اختلاف کو رفع کرنے کے لیے اختلافی باتیں چھپا کر خیر کی بات کرے تو شرعاً ایسا شخص جھوٹا شمار نہیں ہوگا۔ 

مجمع الانہر میں ہے:

"(والكذب حرام إلا في الحرب للخدعة وفي الصلح بين اثنين وفي إرضاء الأهل وفي دفع الظالم عن الظلم) لأنا أمرنا بهذا فلا يبالي فيه الكذب إذا كانت نيته خالصة."

(كتاب الكراهية، فصل في المتفرقات، ج:2، ص:552، ط:دارالطباعة العامرة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100314

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں