بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الثانی 1448ھ 14 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امتحان کا پرچہ افشا (لیک) کرنے کا حکم


سوال

 میں ایک اسکول میں دفتری کام کرتا ہوں، سالانہ امتحان کے سوالیہ پرچے چھپوانے اور پیک کروانے کی ذمہ داری میرے سپرد ہوتی ہے۔ محلے کے کچھ لوگ اور بعض والدین مجھ سے کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو پرچہ ایک دن پہلے دکھا دیں، ان کے نتائج خراب ہو رہے ہیں۔ میں ان سے کوئی پیسہ نہیں لیتا، صرف ہمدردی کی بنیاد پر کبھی کبھی بتا دیتا ہوں۔ کیا اس میں کوئی گناہ ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ امتحانی پرچہ ادارے کی امانت ہوتا ہے، اور اسے امتحان سے پہلے کسی طالب علم یا کسی اور کو بتانا امانت میں خیانت اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے؛ اس میں نہ صرف ادارے کے اعتماد کی خلاف ورزی ہے، بلکہ دیگر طلبہ کے حقوق کی حق تلفی بھی ہے۔اور جن طلبہ کو بتایا جاتا ہے ،ان کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا اور ان میں سستی اور کاہلی پیدا کرنا بھی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے کسی بھی طالب علم یا اس کے سرپرست کو امتحانی پرچہ بتانا جائز نہیں، خواہ وہ اس کے بدلے کوئی رقم لے یا نہ لے، اور خواہ نیت ہمدردی ہی کی  کیوں نہ ہو، مسئولہ صورت میں عدم جواز کی بنیاد رقم لینا نہیں ہے، بلکہ خیانت اور دھوکہ دہی ہے، اس عمل سے اجتناب اور توبہ و استغفار لازم ہے۔

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

 "عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار»."

 (باب، ج:10، ص:138، رقم:10234، ط: مكتبة ابن تيمية - القاهرة)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: «لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له». رواه البيهقي في شعب الإيمان."

(كتاب الإيمان، الفصل الثاني، ج:1، ص:17، رقم:35، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ:

”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بہت کم ایسا ہوتا کہ نبی کریم ﷺ ہم سے بیان کرتے اور یہ نہ کہتے ہوں کہ جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں، اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں۔“

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن أنس) رضي الله عنه (قال: قلما خطب): «ما» مصدرية، أي قل خطبة خطبنا (رسول الله صلى الله عليه وسلم)، ويجوز أن تكون كافة، وهو يستعمل في النفي، ويدل عليه الاستثناء، أي ما وعظنا (إلا قال) أي فيها، ولعل الحصر غالبي. (لا إيمان) أي على وجه الكمال (لمن لا أمانة له): في النفس والأهل والمال، وقيل: فيما استؤمن عليه من حقوق الله وحقوق العباد التي كلف بها."

(كتاب الإيمان، ج:1، ص:108، ط: دار الفكر، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں