بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ربیع الاول 1448ھ 11 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بکاش سیونگ میں رقم رکھنے پر ملنے والی اضافی رقم اور رقم جمع کروانے پر ملنے والے بونس کا شرعی حکم


سوال

بعد از سلام عرض ہے کہ میں بنگلہ دیش کا رہنے والا ہوں اور بنگلہ دیش میں استعمال ہونے والی موبائل فنانشل سروس bKash کے متعلق درج ذیل مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں اس مسئلہ کا شرعی حکم واضح فرما دیں۔

پہلی صورت: bKash Savings

بنگلہ دیش میں bKash کے نام سے ایک موبائل فنانشل سروس ہے، جس کے ذریعے رقم بھیجنے، وصول کرنے اور دیگر مالی معاملات کے ساتھ Savings کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

اس Savings میں رقم رکھنے پر، کمپنی کی طرف سے مخصوص شرائط اور مدت پوری ہونے کے بعد اصل رقم کے علاوہ ایک متعین شرح کے مطابق اضافی رقم دی جاتی ہے، جسے کمپنی Interest کہتی ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1. bKash کی Savings میں رقم رکھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

2. اس رقم پر کمپنی کی طرف سے ملنے والی اضافی رقم شرعی اعتبار سے منافع ہے یا سود (ربا)؟

3. اگر یہ سود کے حکم میں ہو تو اس اضافی رقم کو وصول کرنا اور اپنے ذاتی استعمال میں لانا کیسا ہے؟

4. اس مسئلہ میں پاکستان کے معاصر مفتیانِ کرام، بالخصوص جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے نزدیک کیا حکم ہے؟

دوسری صورت: Add Money پر Bonus

bKash میں بعض اوقات مختلف Promotional Offers بھی دیے جاتے ہیں۔ مثلاً صارف اپنے بینک اکاؤنٹ یا کسی دوسرے ذریعہ سے bKash اکاؤنٹ میں Add Money کرتا ہے، تو کمپنی کی طرف سے Offer کے تحت مثلاً 50 ٹکا اضافی Bonus دیا جاتا ہے۔

اس بارے میں دریافت طلب ہے:

1. Add Money کرنے کے بعد کمپنی کی طرف سے ملنے والا یہ اضافی 50 ٹکا Bonus شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

2. کیا یہ Bonus قرض یا کسی مالی معاملے کے بدلے ملنے والا مشروط فائدہ شمار ہوگا، یا کمپنی کی طرف سے محض ترغیبی انعام / Promotional Gift شمار ہوگا؟

3. اگر یہ Bonus شرعاً جائز ہو تو کیا اسے عام رقم کی طرح استعمال کرنا درست ہے؟

4. اگر اس کے جواز یا عدمِ جواز کا مدار Offer کی شرائط پر ہے تو براہِ کرم اس کی شرعی تفصیل بھی بیان فرما دیں۔

براہِ کرم دونوں صورتوں کا حکم معتبر فقہی اصول اور کتبِ فقہ کی روشنی میں دلائل و حوالہ جات کے ساتھ بیان فرما دیں، تاکہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آسکے۔

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں bKash جیسے موبائل فنانشل اکاؤنٹ میں جو رقم جمع کرائی جاتی ہے، وہ شرعاً کمپنی کے ذمہ قرض ہوتی ہے؛ اور قرض پر مشروط یا معروف کوئی بھی نفع لینا سود ہے۔ اس اصول کی روشنی میں دونوں صورتوں کا حکم درج ذیل ہے:

پہلی صورت (bKash Savings): اس اسکیم میں رقم رکھنے پر مدت پوری ہونے کے بعد جو متعین شرح سے اضافی رقم ملتی ہے، وہ سود ہے، منافع نہیں؛ لہٰذا اس اسکیم میں رقم رکھنا جائز نہیں، اور جو اضافی رقم ملے اسے وصول کرکے اپنے استعمال میں لانا بھی جائز نہیں۔  وصول کرلینے کی صورت میں اگر  کمپنی کو اضافی رقم واپس کرنا ممکن ہو تو کمپنی کو اضافی رقم واپس کر دی جائے، ورنہ ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحق کو صدقہ کر دی جائے؛ سائل صرف اپنی اصل رقم کے بقدر استفادہ کر سکتا ہے۔

دوسری صورت (Add Money پر بونس): اگر یہ بونس اکاؤنٹ میں رقم رکھنے یا کوئی مخصوص بیلنس برقرار رکھنے کی شرط پر ملتا ہو، تو یہ بھی قرض پر مشروط نفع ہونے کی وجہ سے سود ہے اور ناجائز ہے۔ اور اگر یہ بونس رقم رکھنے پر نہیں، بلکہ محض کمپنی کی طرف سے تشہیر و ترغیب کے لیے، اپنی سروس استعمال کرنے پر بطورِ انعام دیا جاتا ہو (جیسے نیا اکاؤنٹ کھولنے پر ملنے والی رقم)، تو اسے لینا اور عام رقم کی طرح استعمال کرنا جائز ہے۔

لہٰذا جواز و عدمِ جواز کا مدار اسی پر ہے کہ بونس کس چیز کے ساتھ مشروط ہے: اگر رقم جمع رکھنے یا اس کی مقدار و مدت کے ساتھ مشروط ہو تو ناجائز، اور اگر محض سروس کے استعمال پر بطورِ تحفہ و پروموشن ہو تو جائز۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعاً حرام".

 ( كتاب البيوع، فصل في القرض، ج:5 ص:166 ،ط: سعيد)

الاشباه والنظائر میں ہے:

"‌‌‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا ‌حرام."

(الفن الثانير: وهو فن الفوائد، ‌‌كل دين أجله صاحبه فإنه يلزمه تأجيله إلا في سبع، ص:226، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: ‌وفي ‌الدلال ‌والسمسار ‌يجب ‌أجر ‌المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."

(كتاب الإجارة، ‌‌باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:63، ط: سعيد)

فيض الباری میں ہے: 

"أجير ‌مشترك، ويكون المعقود عليه فيها عملا خاصا، فلا يستحق الأجرة إلا بعد عمله."

(كتاب البيوع، باب ثمن الكلب، ج:3، ص: 497، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌وأما ‌شرائط ‌الصحة ‌فمنها ‌رضا ‌المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا."

(کتاب الاجارۃ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها،ج:4،ص:411، ط؛دار الفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100295

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں