
میں نے پانچ سال پہلے پلاٹ خریدا ،پھر اس کی مکمل رقم ادا کردی اور فائل بھی لے لی ، اس کے بعد میں نے وہ پلاٹ ایک بندے کو فروخت کردیا اور صرف اس کے نام ٹرانسفر کرنے کے لیے بھی بلڈر کو ایک لاکھ روپیہ ادا کیا۔
اب جب خریدار اس پلاٹ کو اپنے نام کرنا چاہتا ہے تو بلڈر کہہ رہے ہیں کہ آپ ہم سے ہی رجسٹری کروائیں اور وہ اس کے ڈھائی لاکھ مانگ رہے ہیں جبکہ ڈائریکٹ ادارے سے رجسٹری کروانے میں یہ کام ایک لاکھ روپے میں ہو رہا ہے،اس میں وہ بلیک میل کر رہے ہیں کہ اگر آپ ہم سے نہیں کروائیں گے تو رجسٹری کے خرچہ کے علاوہ دو لاکھ روپےآپ کو پھر بھی دینا ہوگا،اور اگر آپ ہمیں نہیں دیں گے تو ہم رجسٹری کے وقت وہاں حاضر نہیں ہوں گے۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا بلڈر کے لیے ایسے کسی کو بلیک میل کر کے یہ پیسہ لینا جائز ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں جب متعلقہ ادارہ سے ایک لاکھ روپے میں رجسٹریشن ہو سکتی ہے تو بلڈر کا اپنے سے رجسٹری کرانے ، اس کے لئے ڈھائی لاکھ مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
"يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ"(سورۃ النساء، آیہ:29)
ترجمہ:آے ایمان والوں! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤ لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ۔
(بیان القرآن،ج:1، ص:349، ط:مکتبہ رحمانیہ)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى"
(باب الغصب والعارية، الفصل الثانی، ج:2، ص:889، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ:اور حضرت ابو حرۃ رقاشیؒ (تابعی) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبر دار کسی پر ظلم نہ کرنا، جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال (لینا یا استعمال کرنا)اس کی مرضی اور خوشی کے بغیر حلال نہیں ۔
(مظاہر حق،ج:3، ص:152، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100288
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن