
میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں،پہلی شادی سے بچے ہیں،میرا تعلق دوسری شادی سے ہے،دوسری شادی سے صرف ایک بیٹا یعنی میں خود ہوں،میری والدہ نے نوکری کرکے ایک گھر خریدا تھا،والدہ کا انتقال ہوچکاہے۔
میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ میری والدہ نے جو گھر نوکری کرکے خریداتھا،اس گھر کی وراثت میں میرے والدکی پہلی بیوی کی اولاد کا بھی حصہ ہوگا ؟ FRC میں صرف میرا نام ہے،راہ نمائی فرمائیں!
میری والدہ کے والدین اور شوہر کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہوگیا تھا۔
صورت مسئولہ میں سائل کی والدہ کے ورثاء میں والدہ کے شوہر کی پہلی بیوی سے اولاد داخل نہیں ہیں،سائل کی والدہ کی صرف اپنی سگی اولاد( سائل) شرعا ًوارث ہے۔ نیز چونکہ سائل کی والدہ کے والدین اور شوہر کا انتقال ہوچکا ہے،لہذاوالدہ مرحومہ کے حقوق متقدمہ (تجہیزو تکفین ،قرض اور وصیت) کی ادائیگی کے بعد ان کے تمام مال کا وارث اور حق دار صرف اکلوتا بیٹا سائل ہوگا۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط، والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة، كذا في الاختيار شرح المختار فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية وهو مولى العتاقة، ثم عصبة مولى العتاقة ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم، ثم ذوي الأرحام ثم مولى الموالاة ثم المقر له بالنسب على الغير بحيث لم يثبت نسبه بإقراره من ذلك الغير إذا مات المقر مصرا على إقراره، كما لو أقر بأخ أو أخت وما أشبه ذلك ثم الموصى له بجميع المال ثم بيت المال، كذا في الكافي."
(کتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض، ج:6، ص:447، ط:المكتبة الرشيديه )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100261
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن