بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1448ھ 25 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا نفقہ لینے کے باوجود حقوقِ زوجیت سے انکار اورقرآن پر حلف کا حکم


سوال

میں، محمد عثمان حسین شاہ ولد اختر حسین شاہ، حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میری ازدواجی زندگی میں کافی عرصے سے ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود میں نے اپنی ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنے اور اپنی اہلیہ کو اپنے ساتھ بسانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ میں اپنی اہلیہ کا نان نفقہ، اخراجات اور دیگر ضروریات اپنی استطاعت کے مطابق پورا کر رہا ہوں اور میری خواہش ہے کہ میری اہلیہ میرے ساتھ اپنے گھر میں آباد ہو کر شرعی اور ازدواجی زندگی گزارے۔ لیکن میری اہلیہ میرے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں اور میرے بیان کے مطابق وہ میرے حقوقِ زوجیت بھی ادا نہیں کر رہی۔ میں نے اس معاملے کو حل کرنے، صلح صفائی کرنے اور اپنی ازدواجی زندگی کو بچانے کے لیے بارہا کوشش کی، لیکن حالات بہتر نہ ہو سکے۔ اس کے باوجود میں نے بہت سی مشکلات اور تکالیف برداشت کیں اور رشتہ نبھانے کی کوشش جاری رکھی۔ مزید یہ کہ میرے سسر ممتاز حسین شاہ ولد مظلوم حسین شاہ کی طرف سے میرے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں مجھ پر جان سے مارنے کی نیت سے حملہ کیا گیا۔ اس واقعے کی وجہ سے میری والدہ صاحبہ کو شدید صدمہ پہنچا۔ اس تمام صورتحال کے باوجود میں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور اپنی اہلیہ کو بسانے اور اپنا گھر بچانے کی کوشش جاری رکھی۔ بعد ازاں جب دوبارہ ازدواجی معاملات خراب ہوئے تو میں اور میری والدہ صاحبہ اپنی اہلیہ کے گھر گئے تاکہ معاملات کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ اس موقع پر بھی معاملات خوش اسلوبی سے حل نہ ہو سکے۔ میرے سسر ممتاز حسین شاہ ولد مظلوم حسین شاہ نے مجھ سے قرآنِ پاک پر حلف بھی لیا اور میں نے بھی حلف دیا۔ میں نے اپنی طرف سے اپنی ازدواجی ذمہ داریاں پوری کرنے اور اپنی اہلیہ کو بسانے کی کوشش کا عہد کیا، لیکن میری شکایت یہ ہے کہ میری اہلیہ کی طرف سے میرے ازدواجی حقوق ادا نہیں کیے جا رہے اور بعض افراد، جن میں میری ساس اور سسر بھی شامل ہیں، کی طرف سے اسے میرے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے سے روکا جا رہا ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری بنیادی خواہش اپنی اہلیہ کو طلاق دینا نہیں بلکہ اپنی ازدواجی زندگی کو بچانا، اپنی اہلیہ کو عزت کے ساتھ اپنے گھر بسانا اور میاں بیوی کے شرعی حقوق ادا کرنا ہے۔ میں اپنی طرف سے نان نفقہ اور دیگر ذمہ داریاں ادا کر رہا ہوں اور آئندہ بھی اپنی شرعی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ لہٰذا میں شرعی رہنمائی کی درخواست کرتا ہوں کہ:

1.  اگر شوہر اپنی بیوی کا نان نفقہ اور ضروری اخراجات پورے کر رہا ہو اور بیوی بلاشرعی عذر شوہر کے ساتھ رہنے اور حقوقِ زوجیت ادا کرنے سے انکار کرے تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

2. اگر کوئی شخص بیوی کو اس کے شوہر کے ساتھ رہنے اور اس کے شرعی ازدواجی حقوق ادا کرنے سے روکے تو ایسے عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

3. اگر سسر یا کوئی دوسرا شخص شوہر پر حملہ کرے یا اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

4. قرآنِ پاک پر لیا گیا حلف ازدواجی معاملات کے سلسلے میں کیا شرعی حیثیت رکھتا ہے؟

5. اس صورتحال میں شوہر کو اپنی ازدواجی زندگی بچانے اور اپنے شرعی حقوق حاصل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟

میں یہ بیان اپنے علم اور یقین کے مطابق درست سمجھتے ہوئے حلفاً پیش کرتا ہوں۔ میرا مقصد کسی پر جھوٹا الزام لگانا نہیں بلکہ اپنے معاملے کی حقیقت بیان کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں درست شرعی رہنمائی حاصل کرنا ہے۔

جواب

1. واضح رہے کہ ازدواجی حقوق کئی حقوق کا نام ہے۔بیوی کون سے ازدواجی حقوق ادا نہیں کر رہی،سوال میں اس کی وضاحت نہیں۔بظاہر سائل کا منشا ہمبستری کا حق ہے۔اس بارے میں حکم یہ ہے کہ جب شوہر بیوی کو اپنی طرف یعنی جماع کی طرف بلائے اور عورت کا کوئی شرعی عذر نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ شوہر  کی اطاعت کرے۔ احادیث میں شوہر کے بلانے پر بیوی کے نہ جانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں،لہذابیوی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کو بغیر کسی شرعی عذر کے قریب آنے نہ دے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ شریعت نے شوہر پر بھی یہ لازم کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق اور اس کی صحت اور رغبت کا لحاظ رکھے اور اس کی استطاعت اور طاقت سے زیادہ اس کو ہمبستری کرنے پر مجبور نہ کرے۔

2. شریعت کی رو سے شادی کے بعد عورت پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہوتا ہے، قرآن و سنت میں بیوی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کی اطاعت کرے بشرطیکہ وہ حکم شریعت کے خلاف نہ ہو، لہٰذا والدین، ساس سسر یا کسی بھی شخص کے لیے شرعاً جائز نہیں کہ وہ بیوی کو بغیر شرعی عذر اس کے شوہر کے ساتھ رہنے اور ازدواجی حقوق ادا کرنے سے روکیں۔

3.شریعتِ مطہرہ میں کسی بھی مسلمان پر ناحق جسمانی حملہ کرنا، اسے نقصان پہنچانا یا جان سے مارنے کی کوشش کرنا حرام ہے۔

4. قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر الفاظِ قسم( جیسے کوئی کہے:  میں  اللہ  کی  قسم کھاتا ہوں یا میں قرآن  کی قسم  کھاتا ہوں  کہ فلاں کام نہیں کروں گا) کہنے سے قسم کھانے  والے  کی قسم شرعی طور  پر  منعقد ہوجاتی  ہے چاہے وہ قسم  ازدواجی معاملات کے سلسلے میں ہوں۔

5. صورتِ مسئولہ میں سائل کی ساس و سسر کو چاہیے  کہ اپنے داماد کو اپنا بیٹا سمجھ کراورسائل کو چاہیےکہ اپنےساس و سسر کواپنے والدین سمجھ کرایک دوسرےکےجائزحقوق اورذمہ داریاں بجالائیں،اورسائل کی ساس و سسر کوچاہیے کہ داماد (یعنی سائل)کو بے جا تنگ کرنے سےہرطرح گریزکریں، سائل  کی خوشیوں کا خیال رکھیں، دونوں  داماد اوربیٹی کےرشتےکوبرقراررکھنےکےہرممکن کوشش کریں،اور اپنی بیٹی کو دامادکےحقوق پورا کرنے سے ہرگز منع نہ کریں ،سائل  بھی ساس و سسر کی ادب و احترام  ہرحال میں ملحوظ رکھیں،اور انہیں شرعی حدود کا لحاظ رکھتے ہوئے حکمت و مصلحت کے ساتھ خودسمجھائیں،یا خاندان میں سے کسی اور نیکوکار،بزرگ   کے ذریعے اس سے سمجھا دیں، ساس و سسر کاایسارویہ اختیارکرنےکے باجودہرحال میں سائل ان کی اداب ،احترام اورخدمت کی خاطر ان کےساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی کوشش کریں،ساس و سسر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیٹی داماد کے معاملات اور تعلقات میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

صحیح البخاری میں ہے:

"حدثنا شعبة، عن عبد الله بن أبي السفر، وإسماعيل بن أبي خالد، عن الشعبي، عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه»."

(باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، ج:1، ص:11، ط: دار طوق النجاة)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح . متفق عليه ... وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح. متفق عليه. وفي رواية لهما قال: والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها. رواه مسلم."

(كتاب النكاح، باب عشرة النساء، ‌‌الفصل الأول، ج:2، ص:968، ط:سعید)

 ترجمہ:" رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔۔۔  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔"

وفیه ایضًا:

"وعن طلق بن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور " رواه الترمذي . "

(كتاب النكاح، باب عشرة النساء، الفصل الثاني، ج:2، ص:972، ط:سعید)

"ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو  اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگر چہ تنور پر روٹی بنارہی ہو ( تب بھی چلی آئے)۔ "

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(لعنتها الملائكة) : لأنها كانت مأمورة إلى طاعة زوجها في غير معصية قيل: والحيض ليس بعذر في الامتناع لأن له حقا في الاستمتاع بما فوق الإزار عند الجمهور."

(باب عشرۃ النساء، ج:5، ص:2121، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"و حقّه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به.(قوله: في كل مباح) ظاهره أنه عند الأمر به منه يكون واجبا عليها كأمر السلطان الرعية به."

(باب القسم،ج:3، ص:208، ط:قدیمی)

وفیه ایضًا:

"(لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا."

(كتاب الایمان، ج:3، ص:712، ط:سعید)

وفیه ایضًا:

"و كفارته تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين أو كسوتهم بمايستر عامة البدن ... و إن عجز عنها صام ثلاثة أيام ولاء."

(کتاب الایمان، ج:3، ص:727، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100256

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں