بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الاول 1448ھ 07 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلا ثبوت چوری کے الزام، سسرالی مداخلت اور شوہر کو طلاق پر اکسانے کا شرعی حکم


سوال

میری شادی کو تین سال ہو چکے ہیں ، میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہوں۔

 البتہ سسرال والے جب سے ساس کا انتقال ہوا ہے، مجھ پر کئی مرتبہ چوری کے الزام لگا چکے ہیں۔

مختلف بار گھر سے کچھ چوری ہوا تو میرے دو جیٹھ، ان کی بیویاں اور چار نندیں میرے خلاف شوہر کو بھڑکاتی ہیں۔

 گھر میں خفیہ کیمرے سے بھی جب کچھ نہ ملا تو میرے شوہر کو میرے خلاف ورغلایا کہ اسے طلاق دے دو، جبکہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔

 اور اب میرے شوہر کا دل میرے لیے برا  ہو گیا اور وہ بھی طلاق دینا چاہتے ہیں۔
​ لہٰذا سوال یہ ہے کہ:

1-  اگر کوئی دوسرے پر چوری کا الزام لگائے اور ثبوت پیش نہ کرے تو کیا حکم ہے؟ الزام کے ثبوت اور اس سے بری ہونے کا؟
​2-  میرے شوہر کا یہ کہنا کہ وہ مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں جبکہ میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا چکی ہوں کہ میں نے چوری نہیں کی بلکہ اپنا ساڑھے تین تولہ سونا بھی شوہر کو کاروبار کے لیے دے چکی ہوں، یہ کیسا ہے؟
​3-  میرے جیٹھ اور دیگر گھر والوں کا یہ طرزِ عمل کیسا ہے اور مجھے جبکہ میں تین ماہ سے اپنے گھر پر بیٹھی ہوں، کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ الزام کے ثبوت اور اس سے بری ہونے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پر کوئی دعویٰ کرے تو مدعی پر شرعی گواہوں کا پیش کرنا لازم ہے، اگر وہ شرعی گواہ پیش کرنے میں کامیاب ہو جائے تو فیصلہ مدعی کے حق میں ہوتا ہے، ورنہ مدعا علیہ (جس پر الزام لگایا گیا ہے) پر قسم آتی ہے۔

1- لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مدعی (سسرال والوں ) پر لازم ہے کہ وہ شرعی گواہوں کو پیش کریں اور چوری کو ثابت کریں، اور اگر مدعی (سسرال والے ) اپنے دعوے اور الزام کو حسبِ ضابطہ شریعت پیش کرنے میں ناکام ہو جائیں، تو ایسی صورت میں مدعا علیہا (سائلہ) پر قسم آئے گی اور مدعا علیہا (سائلہ) مدعی (یا ثالث/فیصل) کے سامنے قسم اٹھانے سے الزام سے بری ہو جائے گی۔

2- واضح رہے کہ اللہ رب العزت نے مردوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے:

﴿وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾

ترجمہ: ”عورتوں کے ساتھ اچھی طرح زندگی بسرکرو۔“ (النساء:۱۹)

اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے کو بہترین شخص قرار دیا ہے، اور حجۃ الوداع کے موقع پر مردوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی خاص طور پر وصیت فرمائی، اور مردوں کو پابند کیا کہ اگر بیویاں شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے شوہر کی اطاعت کرتی رہیں تو ان کو ان پر کسی قسم کی زیادتی کا اختیار نہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کی طرف سے کسی قسم کی چوری ثابت نہیں ہے، جیسا کہ سائلہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم بھی کھا چکی ہے کہ اس نے چوری نہیں کی، اور سائلہ کے جیٹھ، نندوں وغیرہ نے کوئی شرعی گواہ بھی پیش نہیں کیا، تو شوہر کا صرف ان کی باتوں میں آکر محض شک کی بنیاد پر ایسا رویہ رکھنا خلافِ شرع ہے۔

 شوہر کو اس پر فوری توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور بیوی کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ یہ رشتہ اللہ ہی کے نام پر قائم ہوا ہے۔

نیز سائلہ نے اپنے شوہر کے کاروبار کے لیے جو سونا دیا، وہ سائلہ کا شوہر پر بہت بڑا احسان تھا جس پر شوہر کو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے، نہ کہ گھر والوں کی باتوں میں آکر محض شک کی بنیاد پر چوری کا الزام لگانا اور طلاق کی دھمکیاں دینا۔

3-  اگر واقعتاً سائلہ نے کسی بھی قسم کی چوری نہیں کی ہے، سسرال والوں کے پاس اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لیے کوئی شرعی گواہ بھی موجود نہیں، اور سائلہ اپنے شوہر کے سامنے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم بھی کھا چکی ہے، حتیٰ کہ گھر میں نصب خفیہ کیمرہ  کی تلاشی سے بھی سسرال والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیاتو ان تمام حقائق کے باوجود سائلہ کے دونوں جیٹھ، ان کی بیویاں اور چاروں نندوں کا سائلہ کے خلاف شوہر کو بھڑکانا اور اسے طلاق پر اکسانا شرعاً بالکل ناجائز اور شدید گناہ ہے۔

سسرال والوں کا محض بلا دلیل شک و شبہے کی بنیاد پر ایک بے گناہ خاتون(سائلہ)  پر تہمت لگانا، شوہر کے دل میں نفرت ڈالنا اور بستا ہوا گھر اجاڑنے کی کوشش کرنا سخت گناہ ہے۔

 ایسے افراد کو اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے اور اپنے اس رویے پر فوری توبہ و استغفار کرتے ہوئے سائلہ سے معافی مانگنی چاہیے۔

 نیز واضح  رہے کہ قرآنِ کریم میں  اللہ تعالٰی نے میاں بیوی کے درمیان نزاع اور اختلاف کی صورت میں دونوں طرف سے بڑوں میں سے منصف  کو ثالث (حَکَم) مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔

 لہٰذا سائلہ کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان کے کسی منصف ،سمجھ دار، بااثر اور محترم شخص کے ذریعے اپنے شوہر سے بات کروائے، یا وہ منصف ومحترم شخص شوہر کے خاندان کے معززین و بڑوں سے رابطہ کر کے اس نزاع کو حل کرنے اور معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔اور ذیل کی دعائیں پڑھنے کا اہتمام کریں: 

1-اَللّٰهُمَّ  اسْتُرْنِيْ  بِسِتْرِكَ  الْجَمِيْلِ

 اَللّٰهُمَّ اسْتُرْعَوْرَاتِيْ وَآمِنْ رَوْعَاتِيْ

3- اَللّٰهُمَّ لَا تُخْزِنِيْ فَإِنَّكَ بِيْ عَالِمٌ وَلَا تُعَذِّبْنِيْ فَإِنَّكَ عَلَيَّ قَادِرٌ

4- اَللّٰهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتِيْ فِي الْأُمُوْرِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ

جب بھی دعا مانگیں ان میں سے ہر دعا کو کم از کم تین بار پڑھیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا رشاد  ہے:

" وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا." [سورة النساء : 35]

  ترجمہ : ” اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہو تو (ان کے درمیان فیصلہ کرانے کے لیے) ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے بھیج دو۔ اگر وہ اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا۔ بے شک اللہ تعالٰی کو ہر بات کا علم اور ہر بات کی خبر ہے۔“(از بیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه . رواه مسلم وفي شرحه للنووي أنه قال: وجاء في رواية البيهقي بإسناد حسن أو صحيح زيادة عن ابن عباس مرفوعا: لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر."

(كتاب الإمارة والقضاء، باب الأقضية والشهادات، الفصل الأول، ج: 2، ص: 1110، ط: المكتب الإسلامي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"قال النووي: هذا الحديث قاعدة شريفة كلية من قواعد أحكام الشرع، ففيه أنه لا يقبل قول الإنسان فيما يدعيه بمجرد دعواه، بل يحتاج إلى بينة، أو تصديق المدعى عليه."

(كتاب الإمارة والقضاء، باب الأقضية والشهادات، ج: 6، ص: 2439، ط: دارالفکر)

سنن ترمذی میں ہے:

"حدثنا الحسن بن علي الخلال قال: حدثنا الحسين بن علي الجعفي، عن زائدة، عن شبيب بن غرقدة، عن سليمان بن عمرو بن الأحوص قال: حدثني أبي، أنه شهد حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحمد الله، وأثنى عليه، وذكر، ووعظ، فذكر في الحديث قصة، فقال: «ألا واستوصوا بالنساء خيرا، فإنما هن عوان عندكم، ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك، إلا أن يأتين بفاحشة مبينة، فإن فعلن فاهجروهن في المضاجع، واضربوهن ضربا غير مبرح، فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا، ألا إن لكم على نسائكم حقا، ولنسائكم عليكم حقا، فأما حقكم على نسائكم فلا يوطئن فرشكم من تكرهون، ولا يأذن في بيوتكم لمن تكرهون، ألا وحقهن عليكم أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن»: " هذا حديث حسن صحيح، ومعنى قوله: «عوان عندكم»، يعني: أسرى في أيديكم."

(أبواب الرضاع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في حق المرأة على زوجها، ج: 3، ص: 459، ط: مصطفى البابي الحلبي)

وفیہ ایضاً:

"عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه" هذا حديث حسن صحيح وروي هذا عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا."

(أبواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب في فضل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم، ج: 5، ص: 709، ط: مصطفى البابي الحلبي)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"حدثنا جبير بن أبي سليمان بن جبير بن مطعم قال: سمعت ابن عمر يقول: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يدع هؤلاء الدعوات حين يمسي، وحين يصبح: «اللهم ‌إني ‌أسألك ‌العفو ‌والعافية في الدنيا والآخرة، اللهم أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي، اللهم استر عوراتي، وآمن روعاتي، واحفظني من بين يدي، ومن خلفي، وعن يميني، وعن شمالي، ومن فوقي، وأعوذ بك أن أغتال من تحتي."

(كتاب الدعاء، باب ما يدعو به الرجل إذا أصبح وإذا أمسى، ج: 2، ص: 273، ط: دار إحياء الكتب العربية)

مسند أحمد بن حنبل میں ہے:

"عن بسر بن أرطاة القرشي، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو: " اللهم أحسن عاقبتنا في الأمور كلها، وأجرنا من خزي الدنيا وعذاب الآخرة."

(حديث ذكر بسربن ارطاة، ج: 29، ص: 171، ط: مؤسسة الرسالة)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

"ويكون مكروها إذا لم يكن ثمة من داع إليه مما تقدم، وقيل: هو حرام في هذه الحال، لما فيه من الإضرار بالزوجة من غير داع إليه."

(حرف الطاء، طلاق، الألفاظ ذات الصلة، الحكم التكليفي للطلاق، ج: 29، ص: 9، ط: دارالسلاسل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100221

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں