بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر خرید کر بیوی کے نام کروانا

سوال

 ایک شخص خود  کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ اس نے ایک گھر خریدا اور وہ گھر اپنی بیوی کے نام کروا دیا۔ بیوی کو اس نے یہ کہہ کر گھر نام  کروایا کہ اگر کل میرا انتقال ہو جاتا ہے، تو میرے انتقال کے بعد یہ گھر آپ کا ہو، ایسا نہ ہو کہ  میرے بھائی آپ سے یہ گھر لے  لیں، اور  آپ کے پاس کچھ سہارا اور چھت نہ  ہو۔ لیکن بیوی کو اس مکان کا قبضہ وغیرہ نہیں دیا تھا، نہ ہی بیوی کو اس مکان کے مالکانہ حقوق دیے تھے۔ بلکہ وہ مکان خود کرائے پر دے کر اس کا کرایہ خود وصول کرتے تھے اور شوہر ہی اس کا کرایہ گھر میں خرچ کرتاتھا۔  اب بیوی کا اس سے پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے، لیکن شوہر خود زندہ ہے۔ ان دونوں کی اولاد بھی کوئی نہیں تھی، البتہ دو منہ بولے بیٹے بنائے  ہوئے تھے، جن کو زندگی میں دونوں میاں بیوی نے کہا ہوا تھا کہ وہ گھر آپ کا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ گھر کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟

جواب

بصدق واقعہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے جو گھر خرید کر محض بیوی کے نام کروایا تھا کہ کل اگر اس کا انتقال ہو جائے  تو انتقال کے بعد یہ گھر بیوی کا ہو اور اس کے  پاس چھت ہو، لیکن اسے گھر کا قبضہ و مالکانہ حقوق نہیں دیے تھے،  اور بیوی کی زندگی میں شوہر مذکورہ گھر کا کرایہ خود وصول کرتا رہا، اور اپنی مرضی سے گھریلو اخراجات میں صرف کرتا رہا، بیوی کا کوئی عمل دخل نہیں رکھا تھا، تو اس صورت میں شوہر ہی مذکورہ گھر کا شرعاً مالک شمار ہو گا، اور مذکورہ گھر مرحومہ بیوی کے ترکہ میں شامل نہیں ہو  گا، نیز  دونوں میاں بیوی نے اپنے منہ بولے  دونوں بیٹوں کو زبانی جو یہ کہہ رکھا ہے کہ  یہ گھر آپ کا ہے، مگر انہیں اس گھر کا قبضہ و مالکانہ تصرف کا اختیار وغیرہ نہیں دیا ہے، تو مذکورہ دونوں افراد کا زبانی کلامی کہنے سے منہ بولے بیٹے مذکورہ گھر کے شرعاً مالک نہیں بنے ، مکان بدستور شرع مذکورہ شخص (شوہر) کی ملکیت ہے، منہ بولے بیٹوں کا مکان میں شرعاً کوئی حق و حصہ نہیں۔ 

فتا وٰی شامی میں ہے:

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة ... (وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة."

(کتاب الھبۃ، ج:5، ص:689، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل ... (قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت."

(کتاب الھبة، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144803100215
تاریخ29-08-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں