
ایک مسجد کا نام رکھنے میں اہل محلہ کا اختلاف ہوا ہے ،بعض اہل محلہ کی رائے ہے کہ مسجد کا نام صابریہ رکھا جائے، یہ حضرات وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ "صابر" بابا فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے پانچ خاص خلفاء میں سے خلیفہ شیخ علاء الدین علی بن احمد صابر -رحمہ اللہ- کا نام ہے، اور اس سلسلہ (صابریہ چشتیہ) میں بڑے نامور مشائخ عارف، محقق و مصلح پیدا ہوئے، لہذا اس نسبت سے مسجد کا نام "صابریہ" رکھا جائے۔
جبکہ اہل محلہ کے دوسرے گروہ کا مطالبہ ہے کہ مسجد کا نام "قادسیہ" رکھا جائے، یہ حضرات وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ قادسیہ کا لفظ قدس سے نکلا ہے، جس سے اس نام کی نسبت بیت المقدس کی طرف بھی ہوتی ہے اور قادسیہ اور مدینہ طیبہ کے معنی میں معنوی مماثلت بھی پائی جاتی ہے کہ مدینہ کا نام طیبہ ہے، جس کا معنی بزرگی، طہارت اور پاکیزہ جگہ کے ہیں، جبکہ قادسیہ بھی قدس سے ہے، جس کے معنی میں بزرگی، طہارت اور پاکیزگی پائی جاتی ہے۔
نیز قادسیہ کا لفظ احادیث میں بھی آیا ہے جنگ قادسیہ کی پیشگوئی میں اور چونکہ جنگ قادسیہ میں ساڑھے چھ ہزار مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور یہ اسلام کی ایک عظیم الشان فتح تھی اور ایک عظیم جہادی معرکہ تھا تو ان تمام شہدائے قادسیہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اور جنگ قادسیہ جیسے عظیم جہادی معرکے کی یاد مسلمانوں کے دلوں میں تازہ رکھنے کے لیے مسجد کا نام "قادسیہ" رکھنا بہتر ہے۔
برائے کرم آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں مذکورہ دونوں ناموں میں سے کون سا نام رکھنا افضل ہے؟
واضح رہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہوتا ہے، نام صرف مسجد کی پہچان اور علامت ہوتا ہے، اصل چیز مسجد کا احترام، اس کی آبادی اور محلے میں الفت و بھائی چارہ ہے، نام کی بنیاد پر محلے میں کسی قسم کا تنازع، تفرقہ یا دل شکنی پیدا کرنا شرعاً انتہائی ناپسندیدہ ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ مسجد کا کوئی متولی/ منتظم موجود ہے تو وہ جو بھی کوئی اچھا نام تجویز کرتا ہے، وہی نام رکھا جائے، اگر متولی نہ ہو تو اہل محلہ کا باہمی رضامندی سے کسی بھی ایک اچھے نام پر اتفاق کر لینا ہی اصل نیکی ہے، ورنہ محلے کے چند انتہائی غیر جانبدار، سنجیدہ معززین اور مقامی علماء کو جمع کیا جائے اور ان کے سامنے یہ بات رکھی جائے، وہ آپس میں بیٹھ کر جو بھی فیصلہ کریں، باقی تمام محلے دار اسے خوش دلی سے تسلیم کر لیں۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو باہمی رضامندی سے مذکورہ دو ناموں کے علاوہ کوئی نام رکھا جائے۔
تاہم اگر دونوں فریق اپنے اپنے نام (صابریہ اور قادسیہ) پر قائم ہیں اور کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، تو قرعہ اندازی کرا لی جائے، اور پہلے سے یہ طے کر لیا جائے کہ جس کا نام بھی نکلے گا، تمام محلے دار اسے باخوشی اور کھلے دل سے قبول کریں گے۔ قرعہ اندازی سے دلوں کی کھٹک اور باہمی رنجش ختم ہو جاتی ہے۔
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100205
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن