
درود شریف کے بارے میں کیا فضائل ہیں؟ کیا چلتے پھرتے درود شریف پڑھ سکتے ہیں؟ انفرادی درود پڑھنا افضل ہے یا اجتماعی؟ کیا درود شریف کے لیے کوئی دن خاص کرسکتے ہیں؟ مثلاً ہم شب جمعہ کو فارغ ہوتے ہیں تو اس دن درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں؟
ہم جمعرات کے دن عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں درود شریف کی مجلس رکھتے ہیں، جس میں ہم سب آہستہ دل ہی دل میں درود شریف پڑھتے ہیں، اور سورۃ یسین کی تلاوت کرتے ہیں، کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ اس طرح اجتماعی طور پر مسجد میں درود شریف پڑھنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام پڑھنا باعثِ برکت اور ثواب ہے، احادیث میں درود شریف پڑھنے کے کثرت سے فضائل وارد ہوئے ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کے دن لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا ہو۔"
ایک اور موقع پر فرمایا:
"جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں۔"
بالخصوص احادیث میں جمعہ اور شب جمعہ کو درود شریف پڑھنے کے خصوصیت کے ساتھ فضائل آئے ہیں،خود آپ ﷺ نے امت کو جمعہ کی رات درود شریف پڑھنے کی تاکید کی ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ آپ پر کثرت سے درود شریف پڑھا جائے۔
لہذاصورت مسئولہ میں درود شریف کا پڑھناہر صورت جائز ہے، چاہے بیٹھ کر پڑھا جائے یا چلتے پھرتے پڑھا جائے، انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر، البتہ اجتماعی طور محفل قائم کرکےدرود پڑھنے کو لازم سمجھنایا ایک دن اس طرح سے مقرر کرلینا کہ اس دن کو پڑھنا ضروری سمجھاجائے، اور اس کو دین کا حصہ سمجھا جائے، اور اس میں شریک نہ ہونے والے کو ملامت کی جائے، تو یہ شرعاً درست نہیں ہے،اس لیے بہتر ہے کہ التزام سے بچنے کے لیے کسی دن ترک بھی کریں، تاکہ التزام مالایلزم نہ ہو ،البتہ مسجد میں ایسی محفل منعقد کرنے کی صورت میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ دوسرے نمازیوں کو عبادت،نماز اور تلاوت وغیرہ میں خلل نہ ہو۔
سنن الترمذى میں ہے:
"عن أنس بن مالك ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا مررتم برياض الجنة فارتعوا. قالوا: وما رياض الجنة؟ قال: حلق الذكر."
(كتاب الدعوات، باب ماجاء في عقد التسبيح باليد، ج: 2، ص: 191، ط: قدیمی)
ترجمہ:
"حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزرو تو وہاں خوب چر لیا کرو صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ جنت کے باغات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ذکر کی مجلسیں۔"
شعب الإيمان ميں ہے:
"عن ابن عباس قال سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم يقول: "أكثروا الصلاة على نبيكم في الليلة الغراء واليوم الأزهر: ليلة الجمعة ويوم الجمعة."
(کتاب الصلوات، باب فضل الصلوۃ علی النبي صلى الله عليه وسلم، ج: 3، ص: 111، ط: دار الکتب العلمیة)
مشكوة المصابيح میں ہے:
"عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى علي صلاة واحدة صلى الله عليه عشر صلوات وحطت عنه عشر خطيئات ورفعت له عشر درجات."
وفیہ أیضاً:
"وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم علي صلاة."
(کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی النبي وفضلها، ج: 1، ص: 87، ط: رحمانیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال كما جمع بذلك بين أحاديث الجهر والإخفاء بالقراءة ولا يعارض ذلك حديث خير الذكر الخفي لأنه حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام، فإن خلا مما ذكر؛ فقال بعض أهل العلم: إن الجهر أفضل لأنه أكثر عملا ولتعدي فائدته إلى السامعين، ويوقظ قلب الذاكر فيجمع همه إلى الفكر، ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم، ويزيد النشاط......وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ."
(كتاب الصلوة، فروع أفضل المساجد، ج: 1، ص: 660، ط: ایچ ایم سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100193
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن