بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ربیع الاول 1448ھ 10 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منہ دکھائی میں دیے گئے زیور کی ملکیت کا حکم


سوال

میرے کزن نے اپنی شادی کے موقع پر اپنی بیوی کو مہر کے علاوہ سونے کی ایک چیز بطورِ تحفہ دی تھی، جو منہ دکھائی کے موقع پر دی گئی، اور اس کی بیوی نے اسے وصول کرکے اس پر قبضہ بھی کرلیا تھا۔

بعد ازاں میرے کزن پر گھر کے کسی قرض کی وجہ سے مالی بوجھ آگیا، تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ جو زیور اس نے بطورِ تحفہ دیا تھا، وہ اسے دے دے تاکہ اسے فروخت کرکے قرض ادا کیا جاسکے۔ بیوی نے وہ زیور اپنے شوہر کے حوالے کردیا، جس کے بعد شوہر نے اسے فروخت کردیا۔

اب شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، اور طلاق کے بعد بیوی مذکورہ زیور کا مطالبہ کر رہی ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1۔ منہ دکھائی کے موقع پر شوہر کی طرف سے بیوی کو مہر کے علاوہ بطورِ تحفہ دیا جانے والا زیور شرعاً کس کی ملکیت ہوتا ہے؟

2۔ کیا طلاق کے بعد مذکورہ زیور بیوی کو واپس کرنا ضروری ہے، بالخصوص جبکہ شوہر یا اس کے گھر والوں نے کسی موقع پر وہ زیور بیوی سے واپس لے لیا ہو؟

واضح رہے کہ شوہر نے زیورات لیتے وقت بس یہ کہا تھا کہ مجھے وہ زیورات دے دو میں نے قرضہ ادا کرنا ہے ،تو بیوی نے اس کے حولے کردیے تھے۔

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے بعد شوہر کی طرف سے بیوی کو مہر کے علاوہ منہ دکھائی کے موقع پر بطورِ تحفہ دیا جانے والا زیور شرعاً بیوی کی ملکیت ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ مذکورہ سونے کی چیز شوہر نے اپنی بیوی کو باقاعدہ گفٹ کے طور پر دی تھی اور بیوی نے اسے وصول کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا، اس لیے وہ زیور شرعا بیوی کی ملکیت ہوگیا تھا۔ محض بعد میں شوہر کا قرض ادا کرنے کی غرض سے بیوی سے زیور لے لینا اسے شوہر کی ملکیت نہیں بناتا۔

لہٰذا اگر بیوی نے زیور شوہر کو صرف قرض ادا کرنے کے لیے دیا تھا، ہبہ یا ملکیت کے طور پر نہیں دیا تھا، تو شوہر پر اس زیور کی واپسی یا اس کی قیمت ادا کرنا لازم ہوگا، اور طلاق کی وجہ سے بھی بیوی کی ملکیت ختم نہیں ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا."

(كتاب النكاح، باب المهر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج:3، ص:153، ط: سعيد)

 فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية."

(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج:1، ص:327، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100176

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں