
میں نے ڈھاکہ کے ایک بازار میں مالک سے ایک گودام تین لاکھ ٹاکہ ایڈوانس دے کر ماہانہ پچیس ہزار ٹاکہ کرایہ پر لیا تھا۔ اپنے پیسوں سے میں نے اس میں ٹین کا شیڈ ڈلوایا، فرش پکا کروایا اور بجلی کی نئی لائن لگوائی۔ اس کے بعد وہ گودام میں نے ایک کپڑا کاروباری کو ماہانہ چالیس ہزار ٹاکہ کرایہ پر دے دیا اور مالک کو ہر ماہ پچیس ہزار ہی دیتا رہا۔ چار سال بعد مالک کو یہ بات معلوم ہو گئی تو اس نے اعتراض کیا کہ میں نے اس کی جگہ سے ناجائز نفع کمایا ہے اور یہ رقم اسے واپس کرنی چاہیے۔ شرعی حکم کیا ہے؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کوئی مکان، دکان یا گودام کرایہ پر لے اور پھر اسے آگے کسی اور کو کرایہ پر دے تو اصولاً اپنے مقررہ کرایہ سے زائد وصول کرنا جائز نہیں، اور زائد رقم صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے؛ البتہ دو صورتوں میں زائد کرایہ لینا جائز ہے: ایک یہ کہ آگے اس کرنسی کے علاوہ کسی دوسری جنس میں کرایہ پر دے جس میں اس نے خود لیا تھا، اور دوسری یہ کہ اس جگہ میں اپنے مال سے کوئی تعمیری کام یا اضافہ کرے، اس صورت میں زیادتی اس اضافے کے مقابلے میں ہو جاتی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے مذکورہ گودام میں چوں کہ اپنی ذاتی رقم سے شیڈ، پکا فرش اور بجلی کی نئی لائن جیسے تعمیراتی کام کرائےتھ، اس لیےکرایہ دار اول کرایہ دار ثانی ا زائد کرایہ وصول کرنا جائز ہوگا، اور وہ آمدنی سائل کے لیے حلال ہوگی؛ مالک گدام کے لیےسائل (کرایہ دار اول) سے اس زائد کرایہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر مالک نے پہلے سے آگے کرایہ پر دینے سے منع کر رکھا ہو تو اجازت کے بغیر ایسا کرنا درست نہ تھا، اس کی معافی مانگ لینی چاہیے۔
کتاب الاصل میں ہے:
"شعبة بن الحجاج عن حماد عن إبراهيم في رجل استأجر داراً فآجرها بأكثر من أجرها، أنه قال: ذلك رباً. وقال أبو حنيفة: إذا استأجر الرجل عبداً يخدمه فأراد أن يؤاجره من غيره ليخدمه كان ذلك له، ولا يكون مخالفاً، وإن كان استفضل في أجره شيئاً لم يطب له الفضل إلا أن يعينه ببعض متاعه، أو يعينه المستأجر الأول في عمله بشيء قليل، أو بشيء بنفسه أو ببعض أجرائه، فإن فعل ذلك طاب له الفضل."
(كتاب الحيل، باب الوجه في الخدمة وفضول أجورهم والثقة في ذلك، ج:9، ص:415، ط: دار ابن حزم، بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئاً... قال ابن عابدين: (قوله بخلاف الجنس) أي جنس ما استأجر به، وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئاً من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة. (قوله أو أصلح فيها شيئاً) بأن جصصها أو فعل فيها مسناة، وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد."
(كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافاً فيها، ج:6، ص:29، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100173
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن