بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

زما طرف نہ تا آزادہ یے ٹول عمر دا پارا کہنے کا حکم


سوال

میں اور میرے شوہر واٹس ایپ پر بات کر رہے تھے، اور میں ان سے اپنی آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی کہ مجھے آزاد کر دیں اس زبردستی کے رشتے سے، تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ”میں آزاد کرتا ہوں ساری عمر کے لیے“۔ یہ جملہ انہوں نے پشتو میں بولا تھا کہ ”زما طرف نہ تاآزادہ یے ٹول عمر دا پارا“ (یعنی تم میری طرف سے آزاد ہو ساری عمر کے لیے)،تو اس کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ لفظ”آزاد“ طلاق کے صریح بائن الفاظ میں سے ہے،یعنی اس لفظ کی نسبت بیوی کی جانب کرکے کہنے سے فورا طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے،چاہے شوہر نے طلاق دینے کی نیت سے مذکورہ جملہ کہا ہو یا نہ کہا ہو،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائلہ نے اپنے شوہر سے فون پر آزادی کا مطالبہ کیا، اور جواب میں انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ ”زما طرف نہ تاآزادہ یے ٹول عمر دا پارا“ (یعنی تم میری طرف سے آزاد ہو ساری عمر کے لیے)،تو مذکورہ جملہ کہتے ہی اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی،اور نکاح ٹوٹ گیا،جس کی وجہ سے سائل کو اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کا حق تو نہیں ہے،البتہ اگر دونوں سائل اور مطلقہ بیوی ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں، تو  باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے شرعی گواہان کے روبرو  دوبارہ نکاح (چاہےعدت کے دوران یا عدت کے بعد)کرکے میاں بیوی  کی حیثیت  سےرہ سکتےہیں ، اور تجدید نکاح کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار  ہوگا۔

بدائع الصنائع  میں ہے: 

"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضاً حتى لايحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولايجري اللعان بينهما ولايجري التوارث ولايحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية." 

(كتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج:3، ص187، ط: سعید)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے:

"حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو اس لفظ کے کہنے سے کہ تو آزاد ہےایک طلاق بائنہ واقع ہوجاتی ہے،قضاء نیت کا اعتبار نہیں ہے۔لہذا اس عورت کو بدون نکاح جدید کے رکھنا درست نہیں ہے۔پس اگر دوبارہ نکاح کرنے پر رضامند ہیں،تو بدون حلالہ کے نکاح ہوسکتا ہے،ازسرنو نکاح کر لیا جاوے۔"

(کتاب الطلاق،باب چہارم کنایات، ج:9،ص:465، ط:دار الاشاعت)

فقط والله أعلم 


فتویٰ نمبر : 144803100169

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں