بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1448ھ 25 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

امانت دار کی غفلت و لاپرواہی کی صورت میں امانت کے ضائع ہونے کا شرعی حکم


سوال

 میں نے اپنا 7.5 تولہ سونا اپنی بہن کو کچھ دن کے لیے باحفاظت سنبھالنے کے لیے دیا تھا۔ جب کچھ دن بعد میں اپنی امانت لینے گئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ چوری ہو گیا ہے، لیکن ان کا اپنا کوئی  سامان چوری نہیں ہوا۔نیز انہوں نےچوری کی  کوئی .F.I.R وغیرہ  بھی درج نہیں  کروائی ۔

جب ہم نے مزید چھان بین  کی تو میرے بہنوئی نے بتایا کہ جس ڈبے میں سونا تھا، اس سے ان کی بیٹی  ،چوری ہونے سے ایک ، دو دن پہلے کھیل رہی تھی۔ اس لاپرواہی کا میری بہن نے بھی اعتراف کیا۔ پھر میری بہن نے یہ وعدہ کیا کہ "جب میرا بیٹا بڑا ہوگا تو وہ آپ کو آپ کا سونا ادا کر دے گا۔"

اس واقعہ کے دو تین سال بعد میری بہن نے مجھے اپنے سونے میں سے آدھا  تولہ سونا ادا کر دیا اور کہا کہ باقی سونا بھی تھوڑا تھوڑا کر کے میرا بیٹا آپ کو ادا کر دے گا۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعاً میری بہن یہ سونا مجھے ادا کرے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ امانت کا حکم یہ ہے کہ   جس کے پاس امانت رکھی گئی ہو ، اگر وہ اس کی تعدی ، کوتاہی ، غفلت کی وجہ سے گم یا ضائع ہوجائے  اور شرعا ً یہ ثابت ہوجائے کہ امانت والی چیز اس کی غفلت سے ضائع ہوئی  ہےتو اس صورت میں جس  شخص کے پاس امانت رکھی گئی تھی وہ   ضامن ہوگا ، اور اگر اس  نے امانت کو محفوظ رکھا اور اس کی حفاظت کرتا رہا اس کے باوجود وہ چیز گم یا ضائع ہوجائے اور اس میں امین کی کوئی  تعدی ، کوتاہی  یا  غفلت نہ ہو تو  اس صورت میں  اس پر کوئی ضمان لازم  نہیں ہوتا  ۔

صورتِ مسئولہ میں سائلہ نے جو سونا اپنی بہن کے پاس امانت رکھوایا تھا ، وہ اس کی  بہن  کی تعدی ، کوتاہی ، غفلت کی وجہ سے ضائع یا چوری ہوگیا ہے، جیسا کہ سائلہ کے بہنوئی اور بہن نے اپنی لاپرواہی اور غفلت کا اعتراف بھی کیا  ہے  ، تو اس صورت میں  سائلہ کی بہن    ضامن ہے اور اس پر یہ سونا لوٹانا لازم ہے۔

مجلۃ الاحکام  العدلیہ  میں ہے:

"(المادة 787)  إذا هلكت الوديعة أو طرأ نقصان على قيمتها في حال تعدي المستودع أو تقصيره يلزم الضمان."

(الکتاب السادس فی الأمانات،الباب الثانی فی الودیعة،الفصل الثاني: في أحكام الوديعة وضمانها،ص150،ط:نور محمد)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني."

(کتاب الودیعة، الباب الأول، ج: 4، ص: 338، ط:رشیدية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100166

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں