بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ میں بعض ورثاء کے تصرف سے حاصل ہونے والا نفع تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کی میراث تقسیم نہیں کی گئی، بلکہ تمام ورثاء نے اسے مشترکہ طور پر برقرار رکھا۔ بعد ازاں بعض ورثاء نے مشترکہ میراث میں محنت کی، اس کی دیکھ بھال کی اور اپنی محنت کے ذریعے اس کے مال یا آمدنی میں اضافہ کیا، جبکہ بعض ورثاء نے اس مشترکہ میراث میں کوئی محنت نہیں کی۔اب تقریباً بیس سال گزرنے کے بعد میراث تقسیم کرنی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ میراث کی تقسیم کس طرح کی جائے گی؟ آیا ہر وارث کو اس کے حصے کا تعین بیس سال قبل موجود اصل ترکہ کے حساب سے کیا جائے گا، یا موجودہ مال اور اس سے حاصل ہونے والے منافع میں بھی تمام ورثاء اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق شریک ہوں گے؟بالخصوص وہ وارث جس نے گزشتہ بیس سال کے دوران مشترکہ میراث میں کوئی محنت نہیں کی، اس کا حصہ کس حساب سے مقرر کیا جائے گا؟ آیا اسے صرف بیس سال قبل موجود ترکہ میں اس کے شرعی حصے کے بقدر مال دیا جائے گا، یا اس عرصے کے دوران مشترکہ میراث میں ہونے والے اضافے اور منافع میں بھی اس کا حصہ ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ کو ورثاء میں تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ مشترکہ طور پر برقرار رکھا گیا اور جو ورثاء عملی طور پر اس مال کی دیکھ بھال میں مصروف تھے ان کے لیے اضافی حصہ مقرر نہیں کیا گیا تھا   تو اب بیس سال بعد اس ترکہ میں جس قدر اضافہ ہوا وہ سب مذکورہ شخص کے تمام ورثاء میں اپنے اپنے حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگا یعنی تمام ورثاء اصل ترکہ اور اس کے نفع میں حصے دار ہوں گے۔

نیز محنت نہ کرنے والے اپنا حصہ لے کر محنت کاروں کو اپنی طرف سے ہدیہ ،تبرعاً کچھ نہ کچھ معقول حصہ دیدیں تو جائز ہے ،مناسب ہے،بہتر ہوگادیدیں،دل جوئی و محبت قائم و دائم رہے گی۔

مجلۃ الاحكام العدلیہ میں ہے:

"(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح".

(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الأول في بيان شركة الملك، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ص206، ط: نور محمد)

العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

"إخوة خمسة تلقوا تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟

(الجواب) : نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا... اهـ وهذا بناء على الأصل في الشركة أنها بينهم سوية حيث لم يشرطوا شيئا.

وأما إذا شرطوا زيادة لأحدهم فقد قال في البحر ولم يشترط المصنف لاستحقاق الربح اجتماعهما على العمل لأنه غير شرط لتضمنها الوكالة...

قال العلامة ابن عابدين بعد قليل: فالظاهر أنها شركة ملك لا يجري فيها تفاوت في الربح بل يكون ما في أيديهم بينهم سوية كما مر وهذه المسألة تقع كثيرا خصوصا في أهل القرى حيث يموت الميت منهم وتبقى تركته بين أيدي ورثته بلا قسمة يعملون فيها وربما تعددت الأموات وهم على ذلك... ومما يناسب هذا المقام ما كتبته في حاشيتي رد المحتار على الدر المختار في آخر كتاب المزارعة نقلا عن التتارخانية وغيرها مات رجل وترك أولادا صغارا وكبارا وامرأة والكبار منها أو من امرأة غيرها فحرث الكبار وزرعوا في أرض مشتركة أو في أرض الغير كما هو المعتاد والأولاد كلهم في عيال المرأة تتعاهدهم وهم يزرعون ويجمعون الغلات في بيت واحد وينفقون من ذلك جملة قال صارت هذه واقعة الفتوى واتفقت الأجوبة أنهم إن زرعوا من بذر مشترك بينهم بإذن الباقين لو كبارا أو أذن الوصي لو صغارا فالغلة مشتركة وإن من بذر أنفسهم أو بذر مشترك بلا إذن فالغلة للزراعين اهـ فاغتنم هذه الفائدة.

هذا ونقل المؤلف عن الفتاوى الرحيمية سئل عن مال مشترك بين أيتام وأمهم استربحه الوصي للأيتام هل تستحق الأم ربح نصيبها أو لا أجاب لا تستحق الأم شيئا مما استربحه الوصي بوجه شرعي لغيرها كأحد الشريكين إذا استربح من مال مشترك لنفسه فقط ويكون ربح نصيبها كسبا خبيثا ومثله سبيله التصدق على الفقراء اهـ

(أقول) أيضا ويظهر من هذا ومما قبله حكم ما لو كان المباشر للعمل والسعي بعض الورثة بلا وصاية أو وكالة من الباقين".

(كتاب الشركة، 1/ 92، ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100132

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں