بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الاول 1448ھ 30 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کی رخصتی کے ساتھ بیوی کی طلاق معلق کرنا


سوال

میری بیٹی کی شادی کا مسئلہ تھا؛ اس کا نکاح ہو چکا تھا لیکن رخصتی باقی تھی۔ میں اس کی رخصتی اس وقت تک نہیں کرانا چاہتا تھا جب تک اپنے بیٹے کی شادی نہ کرا لوں۔ لڑکے والوں نے کچھ بندے بھیجے تاکہ لڑکی کی رخصتی کرائی جائے، تو اس وقت میں نے ان الفاظ میں طلاق معلق کی کہ:

"ما سو پوری اخپل زوی لہ کنڈؤ نئی کلے نو زہ دا جنئی دہ کورہ نہ اوباسم کہ می او وخکلہ نو بیا بہ دواڑہ اوزی"

(یعنی: جب تک میں اپنے بیٹے کی بہو/دلہن گھر نہ لے آؤں، اس وقت تک میں اس لڑکی کو گھر سے نہیں نکالوں گا یعنی رخصتی نہیں کراؤں گا؛ اگر میں نے نکال دیا تو پھر دونوں (بیٹی اور بیوی) نکلیں گی، یعنی میری بیوی پر طلاق ہو گی۔)

یہ بات میں نے صرف ایک مرتبہ کہی تھی، اور میں نے متعین نہیں کیا تھا کہ کس بیٹے کی شادی کراؤں گا، البتہ میری نیت بڑے بیٹے کی شادی کی تھی۔

اب سے ایک سال قبل میری بیٹی کی رخصتی ہو گئی، لیکن یہ رخصتی نہ میری رضامندی سے ہوئی اور نہ میرے گھر سے، بلکہ میرے بڑے بھائی نے مجھ سے پوچھے بغیر اس کی رخصتی کرا دی۔ میں اب بھی اس پر راضی نہیں ہوں، نہ میں نے اس کے بعد اپنی بیٹی کو اپنے گھر چھوڑا ہے اور نہ ہی اس سے بات چیت یا تعلق رکھا ہے۔

سوالات:

  1. کیا میری بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ جبکہ میں اس رخصتی پر راضی نہیں تھا، نہ میں نے خود کروائی اور نہ اپنے بھائی کو اس کا کہا تھا۔

  2. چونکہ لڑکی کی رخصتی ہو چکی ہے، اب اگر میں اس پر رضامندی ظاہر کروں، بیٹی سے تعلق قائم کروں یا اسے گھر آنے کی اجازت دوں، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگی؟

  3. چونکہ میں نے بیٹے کی شادی کا کہا تھا، تو جب میری بیٹی کی رخصتی ہوئی (جس کا مجھے علم نہیں تھا) اور میں نے اس پر اعتراض کیا، تو میری بیٹی کو واپس لایا گیا۔ اس کے بعد میرے چھوٹے بیٹے کا نکاح کرایا گیا اور بہو گھر لائی گئی، پھر میری بیٹی کو دوبارہ (سسرال) لے جایا گیا، لیکن اس بار بھی میں نے اس کو لے جانے کا نہیں کہا تھا۔

(نوٹ: میں نے یہ شرطیہ الفاظ صرف ایک دفعہ کہے تھے، لیکن بعد میں جس نے بھی پوچھا کہ آپ نے کتنی مرتبہ کہا ہے؟ تو  میں  کہتا کہ پانچ دفعہ کہا ہے)

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے اس طرح کہنے سے کہ: "جب تک میں نے اپنے بیٹے کی شادی نہ کرائی ہو، اس وقت تک میں اس لڑکی کو گھر سے نہیں نکالوں گا (یعنی رخصتی نہیں کراؤں گا)؛ اگر میں نے نکال دیا (یعنی رخصتی کر دی) تو میری بیٹی اور بیوی دونوں نکلیں گی، یعنی میری بیوی پر طلاق ہو گی"؛ تو اس صورت میں اگر سائل ازخود بیٹے کی شادی سے پہلے بیٹی کو رخصت کر دیتا، تو سائل کی بیوی پر طلاق واقع ہو جاتی۔

چونکہ سائل کے بھائی نے سائل کی اجازت کے بغیر سائل کی بیٹی کی رخصتی کرا دی اور سائل کو اس کا علم بھی نہیں تھا، اس لیے اس صورت میں سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور چونکہ رخصتی ہو چکی ہے، لہذا سائل کو چاہیے کہ اپنی بیٹی سے ناراضی ختم کر دے اور اسے اپنے گھر لے آئے؛ اس طرح کرنے سے بھی سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق) وكذا كل امرأة ويكفي معنى الشرط إلا في المعينة باسم أو نسب أو إشارة فلو قال: المرأة التي أتزوجها طالق تطلق بتزوجها، ولو قال هذه المرأة إلخ لا لتعريفها بالإشارة فلغا الوصف."

(کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج: 3 ص: 344 ط: ایچ ایم سعید) 

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100101

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں