بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا والد کے کرائے پر دیے ہوئے مکان کوخالی کرانے کے لیے اولاد والد کو مجبور کر سکتی ہے؟


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا ذاتی مکان ہے، انہوں نے کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر دیا ہوا ہے، کم سے کم سات آٹھ سال سے۔اب اس مدت میں جو کرایہ آج سے سات آٹھ سال سے چل رہا تھا، یعنی جو کرایہ تھا، اب تک اسی کرایہ پر وہ کرایہ دار رہ رہے ہیں۔

یعنی جب کرایہ پر دیا تو سات ہزار روپے ماہانہ پر دیا، جو کافی سال چلتا رہا، پھر مشکل سے ایک ہزار روپیہ بڑھایا، اور آج تک یہی کرایہ ہے، 8000 (گھر میں دو کمرے، ایک صحن، باتھ روم اور کچن ہے)۔

کرایہ داروں نے گھر کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، فرش، دروازے وغیرہ۔نہ ہی گھر کے مالک کرایہ بڑھانے کا کہتے ہیں کہ میری وجہ سے کوئی پریشان نہ ہو، اور نہ ہی کرایہ دار کو خود توفیق ہوتی ہے کہ وہ کرایہ بڑھائے۔اور مالک مکان کا یہی ایک ذاتی گھر ہے، اس کے علاوہ کوئی گھر نہیں۔ (سرکاری گھر میں وہ خود رہ رہے ہیں۔)

اب مالک مکان کے بچے بڑے ہیں، دو بچیاں (شادی شدہ) اور ایک لڑکا (اس کی عنقریب شادی ہے) اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ضرورت ہے یا آگے ضرورت پڑ سکتی ہے، تو آپ مکان خالی کروائیں یا کم از کم گھر کا کرایہ اتنا بڑھائیں جتنا آج کل عام علاقے کے اعتبار سے چل رہا ہے۔

لہذاابو کے بچوں کا یہ کہنا درست ہے یا نہیں؟ اور مالک مکان اب کیا کرے؟مکان مالک کہتے ہیں کہ اگر میں کہوں تو ایسا نہ ہو کہ کرایہ دار مجھ سے الگ ہو اور کسی کو ناراض کرنا گناہ ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد(مالک مکان) اپنے  مکان میں تصرف کرنے میں خود مختار ہے، اولاد میں سے کسی کو شرعاً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے والد کو یہ کہیں کہ آپ یا تو مکان خالی کروائیں یا  اس کا کرایہ بڑھوائیں، اور نہ ہی وہ والد کو اس پر مجبور کر سکتے ہیں،  البتہ اگر  والد(مالک مکان )اپنی مرضی  خود  اپنے مکان کو کرایہ داروں سے خالی کروانا چاہے یا پھر ان کو کرایہ زیادہ کرنے کا کہے تو اس سے وہ گناہ گار نہیں ہو گا۔

فتاویٰ شامی ہے:

"لأن الملك ما من شأنه أن يتصرف فيه بوصف الاختصاص."

(كتاب البيوع، ج:4، ص:502، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100100

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں