بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم سے کسی ادارے کے لیے سامان خریدنا جائز نہیں


سوال

میں گورنمنٹ پاکستان کے ایک دفاعی پیداوار کے ادارے میں ملازم ہوں ، اس ادارے میں  کئی چھوٹے ٹولز اور اسیسریز دستیاب نہیں ہوتیں  جس کی وجہ سے دفاعی پیداوار میں رکاوٹ یا تاخیر ہوتی ہے ، سو روپے کی چیز کی وجہ سے ہزاروں اور ہزار روپے کی چیز کی وجہ سے لاکھوں کا نقصان ہو جاتا ہے ۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی زکاۃ کی رقم میں سے اس دفاعی پیداوار کے ادارے کے لیے ٹولز وغیرہ خرید سکتا ہوں؟ جب کہ میں اس بات کو بھی یقینی بناؤں کہ اس کے بدلے ادارے سے کوئی مالی فائدہ نہیں حاصل کروں گا۔ 

جواب

زکاۃ  مستحق افراد کا حق ہے ، جس کی کی ادائیگی کے لیے تملیک (کسی مستحق زکاۃ شخص کو زکاۃ کی رقم کی ملکیتاً دینا) ضروری ہے، اس کے بغیر زکاۃ ادا نہیں ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ سائل کے لیے زکاۃ کی رقم  سے کسی ادارے کے لیے کسی بھی قسم کا سامان خریدنا جائز نہیں، اور اس سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه وهو المصدق والملك للفقير يثبت من الله تعالى وصاحب المال نائب عن الله تعالى في التمليك والتسليم إلى الفقير والدليل على ذلك قوله تعالى: {ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات}، وقول النبي - صلى الله عليه وسلم - «الصدقة تقع في يد الرحمن قبل أن تقع في كف الفقير» وقد أمر الله تعالى الملاك بإيتاء الزكاة لقوله عزو جل: {وآتوا الزكاة} والإيتاء هو التمليك." 

(کتاب الزكاة، فصل ركن الزكاة، ج:2، ص:39، ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) ۔۔۔۔۔ الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم."

(کتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، ج:2، ص:344،345، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100083

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں