بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الاول 1448ھ 12 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میں تجھے طلاق دوں گا، کہنے کا حکم


سوال

میں نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں تین دفعہ درج ذیل الفاظ کہے کہ "میں تجھے طلاق دوں گا" کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائل نے یہی الفاظ کہے ہیں کہ "میں تجھے طلاق دوں گا" تو مذکورہ الفاظ محض طلاق کی دھمکی کے ہے،  اور شرعاً دھمکی کے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا نکاح بدستور برقرار ہے،دونوں اپنا گھر بسا سکتے ہیں۔

فتح القدیر میں ہے:

"ولا يقع بأطلقك ‌إلا ‌إذا ‌غلب ‌في ‌الحال."

[كتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق، ج:4، ص:7، دار الفكر]

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(كتاب الطلاق ج:1 ،ص:38،ط:دار المعرفة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں