
ایک شخص اپنی بیوی سے گزشتہ ڈیڑھ سے دو سال کے عرصے میں کئی مرتبہ یہ الفاظ کہہ چکا ہے کہ "آپ آزاد ہیں" اس دوران یہ جملہ مختلف مواقع پر کہہ چکا ہے، حتّی کہ غصے کی حالت میں کئی بار کہہ چکا ہے، شرعی نقطۂ نظر سے اس کا حکم کیا ہے، اور ساتھ ہی اس کی بھی وضاحت فرمائیں کہ ان سے کون سی طلاق واقع ہوتی ہے؟
وضاحت: یہ الفاظ "کہ تم آزاد ہو" ایک مجلس میں نہیں کہے گئے بلکہ الگ الگ مجلس میں؛ مثلاً آج میاں بیوی کے بیچ میں گفتگو چل رہی تھی تو شوہر نے کہہ دیا کہ "تم آزاد ہو"، پھر ایک ہفتے بعد یہی الفاظ شوہر نے کہہ دیے، پھر دو مہینے بعد اس طرح کہہ دیا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کو " آپ آزادہیں" متعدد مرتبہ کہا ہے تو پہلی مرتبہ یہ جملہ کہنے سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی تھی ،اور اس کی وجہ سے نکاح ختم ہو چکا تھا، اس کے بعد میاں بیوی کا تجدید نکاح کے بغیر ساتھ رہنا جائز نہیں تھا، تجدید نکاح کے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے جتنا عرصہ ساتھ رہے ہیں اس پر توبہ و استغفار لازم ہے، اگر میاں بیوی نے آئندہ ساتھ نہیں رہنا تو فوراً علیحدگی اختیار کریں اور اگر ساتھ رہنا ہے تو عدت کے دوران یا عدت گزرنے کے بعد، نئے مہر کے تعین کے ساتھ شرعی گواہوں کے سامنے تجدیدِ نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں،تجدید نکاح کی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
نیز مذکوہ جملہ متعددبار کہنے سے متعدد طلاقیں نہیں ہوئیں ، فقہی اعتبار سے” آزاد “ کا لفظ صریح بائن ہے اور بائن کو بائن لاحق نہیں ہوتی ۔
فتاویٰ شامی میں ہے :
"فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي."
(كتاب الطلاق، باب الكنايات ، ج:3، ص: 299، ط: سعيد)
فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے :
"أما إذا قالت المرأة في المشاجرة: چون منت نمی باهم رها کن، أو: عفو کن، أو پای کشاده کن، أو: آزاد کن! فقال الزوج : کردم، یا: بخشیدم، يا: ماندم، يا: عفو کردم، يا: رها کردم، يا: آزادت کردم! يقع الطلاق بدون النية ."
( كتاب الطلاق ، فصل فيما يرجع إلى صريح الطلاق ،ج : 4، ص:412، ط: رشيديه )
فتاویٰ شامی میں ہے :
"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) ... (لا) يلحق البائن (البائن)"
(كتاب الطلاق ، باب الكنايات ،ج:3 ،ص: 306، ط: سعید)
فتاوی ٰ شامی میں ہے :
"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (قوله: وينكح مبانته بما دون الثلاث) لما ذكر ما يتدارك به الطلاق الرجعي ذكر ما يتدارك به غيره فتح ولذا عقد له في الهداية هنا فصلا (قوله: بالإجماع) راجع إلى قوله في العدة وهو جواب عن سؤال هو أن قوله: {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235] يعني انقضاء العدة عام، فكيف جاز للزوج تزوجها في العدة والنص بعمومه يمنعه، والجواب أنه خص منه العدة من الزوج نفسه بالإجماع (قوله: ومنع غيره) أي غير الزوج في العدة لاشتباه النسب بالعلوق، فإنه لا يوقف على حقيقته أنه من الأول، أو الثاني، وهذا حكمة شرعية العدة في الأصل."
(كتاب الطلاق، باب الرجعة، مطلب في العقد على المبانة، ج:3، ص: 409، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100076
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن