
میں آئل کمپنی میں کام کرتا ہوں، اسی طرح موٹر سائیکل پر بھی ڈلیوری کا کام کرتا ہوں، کام کے دوران میرا موٹر سائیکل خراب ہو گیا تو میرے پاس موٹر سائیکل بنانے کے لیے پیسے نہیں تھے، میں نے اپنی بیوی سے قرض کا مطالبہ کیا تو بیوی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں اپنی بہن سے آپ کے لیے قرض لیتی ہوں لیکن ایک شرط پر کہ اگر آپ نے فلاں (یعنی دس تاریخ) کو واپسی نہیں کیے تو یہ کہیں کہ آپ مجھ پر حرام ہو تو میں نے بیوی کو کہا کہ ٹھیک ہے ”اگر میں نے دس تاریخ کو واپسی نہیں کئےتو آپ مجھ پر حرام ہو، تم آزاد ہو، اپنے والد کے گھر جا سکتی ہو“ (یہ میں صرف ایک دفعہ ہی بولا ہوں) میں نے یہ اس وجہ سے کہا کہ مجھے 8 تاریخ کو تنخواہ ملنے والی تھی، مجھے یقین تھا کہ دس تاریخ کو واپس کردوں گا لیکن دس تاریخ کو میں پیسے دینے والا تھا کہ اس سے پہلے یعنی دس تاریخ سے دو دن پہلے میری بیوی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کروا کر تقریباً پانچ دن ہم وہاں رہے، اسی دوران دس تاریخ گزر گئی اور مجھے یاد نہیں رہا، جب گھر والی کی طبیعت ٹھیک ہوگئی، اور ہم واپس گھر آئے تو بیوی نے مجھے یاد دلایا کہ تاریخ تو گزر گئی۔
تو اب سوال یہ ہے کہ جب تاریخ گزر گئی اور مجھے یاد نہیں رہا، اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اور کتنی ہوئی ہے؟ اگر طلاق واقع ہوئی ہے، اس کے بعد ہم دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟
وضاحت:بیوی نے اس وجہ سے شرط لگائی تھی کہ اس نے کہا کہ آپ مجھ سے پیسے لیتے ہو اور پھر رقم واپس نہیں کرتے۔
میں نے جب بیوی سے شرط پر یہ الفاظ بولے کہ ”آپ مجھ پر حرام ہو، تم آزاد ہواپنے والد کے گھر جا سکتی ہو“ اس سے میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔
صورتِ مسئولہ میں آپ نے اپنی بیوی کے مطالبہ پر جو الفاظ کہے کہ: ” اگر میں نے دس تاریخ کو(پیسے ) واپس نہیں کیے تو آپ مجھ پر حرام ہو ، تم آزاد ہو ، اپنے والد کے گھر جاسکتی ہو“ تو ان الفاظ کی وجہ سے مذکورہ شرط کے ساتھ طلاق مشروط ہوگئی تھی، لہذا جب دس تاریخ کو پیسے واپس نہیں کیے (اگرچہ قصداً ایسا نہیں ہوا) تو شرط پائے جانے کی وجہ سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی اور نکاح ختم ہو چکا ہے، اب اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں، تو عدت کے دوران یا عدت گزرنے کے بعد، نئے مہر کے تعین کے ساتھ شرعی گواہوں کے سامنے تجدیدِ نکاح کر سکتے ہیں، دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کے لیے باقی دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي."
(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق باالشرط، الفصل الثاني في تعليق الطلاق، ج:1 ،ص: 416، ط: رشيديه)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف. (قوله: فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."
(كتاب الطلاق، باب الصريح الطلاق، ج:3، ص: 252،ط: سعید)
وفيه ايضا :
"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) ... (لا) يلحق البائن (البائن)."
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص: 306، ط: سعید)
وفيه ايضا :
" (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (قوله: وينكح مبانته بما دون الثلاث) لما ذكر ما يتدارك به الطلاق الرجعي ذكر ما يتدارك به غيره فتح ولذا عقد له في الهداية هنا فصلا (قوله: بالإجماع) راجع إلى قوله في العدة وهو جواب عن سؤال هو أن قوله: {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235] يعني انقضاء العدة عام، فكيف جاز للزوج تزوجها في العدة والنص بعمومه يمنعه، والجواب أنه خص منه العدة من الزوج نفسه بالإجماع (قوله: ومنع غيره) أي غير الزوج في العدة لاشتباه النسب بالعلوق، فإنه لا يوقف على حقيقته أنه من الأول، أو الثاني، وهذا حكمة شرعية العدة في الأصل."
(كتاب الطلاق، باب الرجعة، مطلب في العقد على المبانة، ج:3، ص: 409، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100071
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن