بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

اسکول کے اساتذہ کا طلبہ سے کھانا منگوا کر کھانے کا شرعی حکم


سوال

اسکول کے اساتذہ  طلبہ سے کھانا منگوا کر کھاتے ہیں، کیا یہ حلال ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر طالب علم نابالغ ہو  اور اپنے مال سے استاد کے لیے کھاناکا انتظام کرے،یا بالغ ہو لیکن  اپنی دلی رضامندی کے بغیر محض استاد کے مطالبے کے دباؤ کی وجہ سے مجبوراً کھانا لائےتو استاد کے لیے یہ کھانا کھاناشرعاً جائز نہیں ہے، البتہ اگر طالب علم عاقل و بالغ ہو اور کسی قسم کے دباؤ کے بغیر اپنی دلی خوشی سے استاذ  کے لیے کھانا لائے، یا بچے کے والدین نے بطیبِ خاطر استاذ ہی کے لیے کھانا بھیجا ہو تو اِن صورتوں میں وہ کھانا استاذ کے لیے حلال و جائز ہوگا، بہرکیف جس صورت میں کھانا کھانا جائز ہے اُس  صورت میں بھی بلاوجہ شرعی اساتذہ کو اِس طرزِ عمل کو معمول بنالینے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) ما يرجع إلى الواهب فهو أن يكون ممن يملك التبرع ولأن الهبة تبرع فلا يملكها من لا يملك التبرع فلا تجوز ‌هبة ‌الصبي والمجنون لأنهما لا يملكان التبرع."

(كتاب الهبة، ج:6، ص:118، ط:دارالكتب العلمية)

دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"أما لو أحضر ‌الصغير ‌لأحد ‌هدية وقال له أرسلني أبي بهذه الهدية لك فلذلك الشخص تناول تلك الهدية ما لم يقع في قلبه أن الصغير المذكور كاذب في قوله هذا (الهندية)."

(كتاب الهبة،المادة 859: كون الواهب عاقلا بالغا، ج:2، ص:452، ط:دارالجيل)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وكذلك لو كان هذا ‌الصغير أراد أن يهب ما أتى به من رجل أو يتصدق به عليه فينبغي لذلك الرجل أن لا يقبل هديته، ولا صدقته حتى يسأل عنه، فإن قال: إنه مأذون في الهبة والصدقة فالقابض يتحرى ويبني الحكم على ما يقع تحريه عليه، فإن لم يقع تحريه على شيء يبقى ما كان على ما كان قبل التحري، قال محمد - رحمه الله تعالى -: وإنما يصدق ‌الصغير فيما يخبر بعد ما تحرى ووقع تحريه أنه صادق إذا قال: هذا المال مال ‌أبي أو مال فلان الأجنبي أو مال مولاي، وقد بعث به إليك ‌هدية أو صدقة، فأما إذا قال: هو مالنا، وقد أذن لنا أبونا أن نتصدق به عليك أو نهبه لك لا ينبغي له أن يقبل ذلك كذا في الذخيرة."

(كتاب الكراهية، الفصل الثاني في العمل بخبر الواحد في المعاملات، ج:5، ص:311، ط:دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتصرف الصبي والمعتوه) الذي يعقل البيع والشراء (إن كان نافعا) محضا (كالإسلام والاتهاب صح بلا إذن وإن ضارا كالطلاق والعتاق) والصدقة والقرض (لا وإن أذن به وليهما وما تردد) من العقود (بين نفع وضرر كالبيع والشراء توقف على الإذن) حتى لو بلغ فأجازه نفذ.

(قوله: والاتهاب) أي قبول الهبة وقبضها وكذا الصدقة، قهستاني (قوله: وإن ضاراً) أي من كل وجه أي ضرراً دنيوياً، وإن كان فيه نفع أخروي كالصدقة والقرض (قوله: كالطلاق والعتاق) ولو على مال فإنهما وضعاً لإزالة الملك وهي ضرر محض، ولايضر سقوط النفقة بالأول وحصول الثواب بالثاني، وغير ذلك مما لم يوضعا له إذ الاعتبار للوضع، وكذا الهبة والصدقة وغيرهما قهستاني".

(كتاب المأذون، ج:6، ص:173، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(كتاب الحدود، ج:4، ص:61، ط:سعيد)

امدادُ المفتین (کامل) میں ہے:

”لڑکے جو ختم امتحان وغیرہ پر انعام دیتے ہیں دو شرطوں سے جائز ہے اول یہ کہ اگر لڑکے خود بالغ ہیں تو اپنی رضاء سے دیں اور اگر نابالغ ہیں تو ان کے والدین کا راضی ہونا شرط ہے دوسرے یہ کہ مدرس اپنا طرز ایسا نہ ڈالے جس سے طلبہ کو یہ معلوم ہو کہ اگر انعام نہ دیں گے تو ہمیں نقصان پہنچے گا۔“

(کتاب الہبۃ والصدقۃ، جلد دوم، ص:۷۳۳، ط:دارالاشاعت کراچی)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

سوال [۱۱۲۲۵]: طلباء بستی سے کھانا کھاتے ہیں، لیکن ان کے استعمال سے زائد کھانا ہے، انہوں نے اپنے استاد کے گھر دے دیا۔ کھانا استاد کو کھالینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلياً:یہ کھانا طلباء نے اپنے استاذ کو ہدیہ دیا ہے، اس کا کھانا استاذ صاحب کے لئے درست ہے۔“

(کتاب الہبہ، باب الضیافات والہدایا، ج:۲۲، ص:۱۷۴، ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100058

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں