
1. اگر کوئی شخص پہلی صف میں بیٹھتا ہے لیکن نماز شروع ہونے سے پہلے پچھلی صف سے کسی بزرگ کو جگہ دیتا ہے اور خود پچھلی صف میں چلا جاتا ہے تو اس کو پہلی صف کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
2.مسجد میں کسی کے لیے صف میں جگہ روکنا کیسا ہے؟
1. شریعتِ مطہرہ میں نمازِ باجماعت کے دوران پہلی صف میں کھڑے ہونا انتہائی فضیلت، خیر اور برکت کا باعث ہے،البتہ کسی عالمِ دین، استاد یا بزرگ کی تعظیم کی خاطر اپنی جگہ چھوڑ کر انہیں آگے کرنا ایثار اور ادب کے زمرے میں آتا ہے جو شرعاً نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے،مزید یہ کہ اس شخص كو پہلی صف کا ثواب بھی ملے گا اور ایثار کی وجہ سے دہرا اجر ملے گا۔
2. مسجد اللہ جل شانہ کا گھر ہے، اور موقوفہ جگہ ہوتی ہے جس میں تمام مسلمان برابر کے حق دار ہوتے ہیں، اس پر کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، لہذا مسجد میں کسی جگہ کو ڈیکس، رومال، چادر، مصلی، تسبیح وغیرہ رکھ کر اپنے لیے یا کسی دوسرے کے لیے متعین کرکے چلے جانا اور جماعت کے وقت آکر اس جگہ پر اپنا حق جتانا اور بیٹھے ہوئے شخص کو اس جگہ سے ہٹنے پر مجبور کرنا یا اس جگہ پر کسی کو بیٹھنے نہ دینا، یہ سب ناجائز ہے، البتہ پہلے سے مسجد میں آکر کسی جگہ بیٹھنے کے بعد بغرضِ وضو یا قرآنِ مجید لینے کے لیے اٹھتے ہوئے اس جگہ پر رومال، تسبیح وغیرہ رکھ کر جانا، یا آس پڑوس میں بیٹھے شخص کو کہہ کر جانا جائز ہے، اور اس طرح کرنے سے وہ جگہ اس شخص کے لیے مخصوص رہے گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله وتخصيص مكان لنفسه) لأنه يخل بالخشوع، كذا في القنية: أي لأنه إذا اعتاده ثم صلى في غيره يبقى باله مشغولا بالأول، بخلاف ما إذا لم يألف مكانا معينا (قوله وليس له إلخ) قال في القنية: له في المسجد موضع معين يواظب عليه وقد شغله غيره. قال الأوزاعي: له أن يزعجه، وليس له ذلك عندنا اهـ أي لأن المسجد ليس ملكا لأحد بحر عن النهاية.
قلت: وينبغي تقييده بما إذا لم يقم عنه على نية العود بلا مهلة، كما لو قام للوضوء مثلا ولا سيما إذا وضع فيه ثوبه لتحقق سبق يده تأمل. مطلب فيمن سبقت يده إلى مباح وفي شرح السير الكبير للسرخسي: وكذا كل ما يكون المسلمون فيه سواء كالنزول في الرباطات، والجلوس في المساجد للصلاة، والنزول بمنى أو عرفات للحج، حتى لو ضرب فسطاطه في مكان كان ينزل فيه غيره فهو أحق، وليس للآخر أن يحوله."
(کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:662، ط:سعید)
وفیه أیضاً:
''وفي حاشية الأشباه للحموي عن المضمرات عن النصاب: وإن سبق أحد إلى الصف الأول فدخل رجل أكبر منه سنا أو أهل علم ينبغي أن يتأخر ويقدمه تعظيما له اهـ فهذا يفيد جواز الإيثار بالقرب بلا كراهة خلافا للشافعية. وقال في الأشباه: لم أره لأصحابنا. ونقل العلامة البيري فروعا تدل على عدم الكراهة، ويدل عليه قوله تعالى {ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة} [الحشر: 9] وما في صحيح مسلم من ،أنه عليه الصلاة والسلام أتي بشراب فشرب منه وعن يمينه أصغر القوم وهو ابن عباس وعن يساره أشياخ، فقال عليه الصلاة والسلام للغلام: أتأذن لي في أن أعطي هؤلاء؟ فقال الغلام لا والله، فأعطاه الغلام، إذ لا ريب أن مقتضى طلب الإذن مشروعية ذلك بلا كراهة وإن جاز أن يكون غير أفضل. اهـ.
أقول: وينبغي تقييد المسألة بما إذا عارض تلك القربة ما هو أفضل منها؛ كاحترام أهل العلم والأشياخ، كما أفاده الفرع السابق والحديث فإنهما يدلان على أنه أفضل من القيام في الصف الأول، ومن إعطاء الإناء لمن له الحق وهو من على اليمين، فيكون الإيثار بالقربة انتقالا من قربة إلى ما هو أفضل منها وهو الاحترام المذكور. أما لو آثره على مكانه في الصف مثلا من ليس كذلك يكون أعرض عن القربة بلا داع، وهو خلاف المطلوب شرعا.''
(كتاب الصلاة، باب الامامة، ج:1، ص:569، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100037
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن