بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

شریعت میں منافع کی حد


سوال

کاروبار میں کتنا  منافع لےسکتے ہیں؟ کیا اس کی کوئی حد ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ نے خرید و فروخت میں منافع کی کوئی ایسی حد مقرر نہیں کی ہے کہ جس سے تجاوز کرنے کی صورت میں منافع کو حرام قرار دیا جائے، بلکہ اسے خریدار اور فروخت کنندہ کی باہمی رضامندی پر موقوف رکھا ہے، البتہ کسی کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے  مطلوبہ اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی ہے، اور بازار میں منافع کی  عام چلن سے زائد منافع وصول کرنے کو نا مناسب عمل  قرار دیا ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رجلا جاء إلى النبي - صلي الله عليه وسلم -، فقال: ‌سعر. فقال: "إن الله عز وجل يرفع ويخفض، ولكني لأرجو أن الله عز وجل: وليس لأحد عندي مظلمة".

(ج:8، ص:317، رقم الحديث:8427، ط:دار الحديث،القاهرة)

"ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اشیاء) کے نرخ مقرر فرما دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں دعا کروں گا، پھر ایک شخص نے آکر عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! بھاؤ مقرر فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بھاؤ گھٹاتا اور بڑھاتا ہے اور میں یہ آرزو رکھتا ہوں کہ اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں کہ میں نے کسی پر بھی زیادتی نہ کی ہو"۔

مشکات شریف میں ہے:

"عن علي رضي الله عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌عن ‌بيع ‌المضطر وعن بيع الغرر وعن بيع الثمرة قبل أن تدرك."

ترجمہ:”حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجبور و بےبس شخص کی بیع سے، دھوکے کی بیع سے اور پھلوں کی بیع سے اس سے پہلے کہ وہ پک جائیں منع فرمایا ہے۔“

(كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع، الفصل الثاني، ج:2، ص:767، ط:المكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي النتف: بيع المضطر وشراؤه فاسد.

(قوله بيع المضطر وشراؤه فاسد) هو ‌أن ‌يضطر ‌الرجل ‌إلى ‌طعام أو شراب أو لباس أو غيرها ولا يبيعها البائع إلا بأكثر من ثمنها بكثير، وكذلك في الشراء منه كذا في المنح." 

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج:5، ص:59، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن اشتری شیئًا و أغلی في ثمنه فباعه مرابحةً علی ذلك جاز، وقال أبویوسف: إذا زاد زیادةً لایتغابن الناس فیها فإني لا أحب أن یبیعه مرابحةً حتی یبیّن ، و الأصل أنّ عرف التجار معتبر في بیع المرابحة".

(کتاب البیوع، الباب الرابع عشر في المرابحة والتولية والوضيعة، ج:3، ص:161، ط:رشیدیه)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں