بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد پر ایسی زنجیریں لٹکنا جس سے گھنگرو کی آواز پیدا ہو


سوال

ہمارے گاؤں کی جامع مسجد زیارت کی چھت پر لوہے کی ٹین بچھائی گئی ہے۔ٹین بچھانے کے بعد اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکرے، چھوٹی زنجیروں یا ڈوریوں کے ذریعے محض زینت وخوبصورتی کی غرض سے مسجد کے بیرونی حصے میں چھت کی جانب سے نیچے لٹکائے گئے ہیں۔ ہوا چلنے کی صورت میں یہ ٹین کے ٹکڑے آپس میں یا چھت پر بچھائی گئی ٹین سے ٹکراتے ہیں، جس کی وجہ سے گھنگرو کی آواز جیسی آواز پیدا ہوتی ہے۔ یہ آواز کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی ہے، اور مسجد سے کافی فاصلے پر سنائی دیتی ہے۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مسجد کی زینت وخوبصورتی کے لیے اس طرح لوٹے یا ٹین کے ٹکڑے لٹکانا شرعا جائز ہے، جبکہ ہوا چلنے کی صورت میں ان کے ٹکرانے سے آواز پیدا ہوتی ہو؟

اگر اس طرح ٹین کے ٹکڑے لٹکانا مسجد کے آداب کے خلاف یا مکروہ/ ناجائز ہو، تو اس کی شرعی کیا حیثیت ہے؟

قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں، نیز اگر انہیں ہٹانا ضروری یا بہتر ہو تو اس کی بھی وضاحت فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ مسجد میں ٹین کے ٹکڑوں کے ٹکرانے سے گھنگرو اور گھنٹی کی آواز پیدا ہوتی ہے، یہ شرعا مکروہ اور ناجائز ہے،اس کو ہٹانا ضروری ہے۔ نیز یہ آواز نمازیوں کی نمازوں میں خلل کا ذریعہ بھی ہے، اور فقہاء کرام نے مسجد کی زیب وزینت کے لیے اس نقش ونگار کو بھی منع فرمایا ہے، جو نمازیوں کی نماز میں خلل واقع کرے،لہذا مسجد کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مذکورہ زنجیروں یا ڈوریوں کو ہٹادے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله -صلَّى الله عليه وسلم-:"لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب أو جرس".

ترجمہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں کتا یا گھنٹی ہو“۔

(كتاب اللباس والزينة، باب كراهة الكلب والجرس في السفر، ج:6، ص:162، ط:دار الطباعة العامرة)

محیط برہانی میں ہے:

"وكره بعض مشايخنا القوس على المحراب وحائط القبلة؛ لأن ذلك يشغل قلب المصلي إذا نظر فيه، وروي أنه أهدي إلى رسول الله عليه السلام ثوب معلم فصلى فيه، ثم نزعه فقال: كان يشغلني علمه عن بعض صلاتي."

(كتاب الاستحسان والكراهية، ج:5، ص:316، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں