بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹوں اورایک بیٹی میں ترکہ کی تقسیم


سوال

میرے والد صاحب نے اپنا گھر جس میں ہم سب رہتے تھے، سن 1993ء  میں  دستاویزات تیار کروا کر مجھے گفٹ کر دیا، صرف نام کیا تھا، قبضہ اور تصرف نہیں دیا تھا، 1999ء میں میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، بوقت انتقال مرحوم کی بیوہ، 1 بیٹی اور  3 بیٹے  حیات تھے۔   جبکہ ایک بیٹے کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔

ہماری والدہ کا انتقال 2007ء میں ہوا، اس وقت سے بھائی کی فیملی اس مکان میں  رہتی تھی، لیکن ایک سال قبل بھائی وہاں سے شفٹ ہو گیا، اور اب تمام بھائی بہن جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ 

تقسیم کس تناسب سے ہو گی ؟ اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں !

جواب

واضح رہے کہ رہائشی مکان بیوی، بالغ اولاد یا کسی اجنبی کو ہبہ (گفٹ) کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مالکِ مکان، مکان سے رہائش قطع کر کے مالکانہ تصرف کے اختیار کے ساتھ جسے دینا مقصود ہو، اس کے سپرد کردے، مکان میں رہتے ہوئے محض  نام کر دینا (انتقالِ ملکیت کے لیے) نا کافی ہوتا ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکور  مکان سائل  کے نام ہو جانے کے باوجود بدستور شرعاً والد (مرحوم) کی ہی ملکیت رہا، اور ان کی وفات کے بعد شرعاً ترکہ شمار ہوگا، جو کہ مرحوم کے ورثاء کے درمیان  میراث کے شرعی ضابطہ کے تحت تقسیم کیا جائے گا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے   مرحوم   کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کی تجہیز و تکفین کے اخراجات  نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے نافذ کرنے کے بعد،  باقی   کل متروکہ جائیداد  (منقولہ و غیر منقولہ ) کو 7  حصوں میں تقسیم کر کے  2   حصے مرحوم کے ہر بیٹے  کو اور 1 حصہ مرحوم کی بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت  (مرحومین): 7

بیٹابیٹابیٹابیٹی
2221

یعنی فیصد کے اعتبار سے 28.571 فیصد مرحوم کے ہر بیٹے کو، اور 14.285 فیصد مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".

(کتاب الھبة، الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز، ج: 4، ص: 378،ط: رشیدیه)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".

(کتاب الھبة، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں