
ہمارے علاقے میں نکاح یعنی شادی سے پہلے منگنی کی جاتی ہے، جس میں باقاعدہ نکاح نہیں پڑھایا جاتا، بلکہ لڑکے اور لڑکی دونوں کے رشتہ دار جمع ہوتے ہیں اور آپس میں یہ طے کرتے ہیں کہ فلاں عورت فلاں آدمی کی ہوگی ،آپس میں دونوں مرد وعورت راضی ہوتے ہیں، لیکن مسنون نکاح نہیں ہوتا جس سے عقد وجود میں آئے، بلکہ باہمی اتفاق سے دونوں کے درمیان ازدواجی رشتہ قائم کرتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ عورت اس مرد کی ہوگی جس کے بعد وہ عورت دوسرے آدمی سے نکاح نہیں کر سکتی۔ سوال یہ ہے کہ:
1۔کیا یہ منگنی شرعی نکاح سمجھا جائے گا یا نہیں ؟اور اس کے بعد نکاح کے احکام جاری ہوں گے یا نہیں؟ یعنی مثلا آپس میں باہمی تعلقات قائم کرنا جس میں بعض اوقات ملاقات بھی ہوتی ہے اور باتیں بھی ہوتی ہیں تو کیا شرعا یہ جائز ہے یا نہیں؟
2۔ نیز منگنی میں مرد کی طرف سے باقاعدہ روپیے تقسیم ہوتے ہیں، تو شرعا اس کا حکم کیا ہے؟ جائز ہے یا ناجائز؟
واضح رہے کہ شرعی نکاح محض باہمی رضامندی، خاندانوں کے اتفاق یا اس بات کے طے کرلینے سے منعقد نہیں ہوتا کہ فلاں عورت فلاں مرد کی ہوگی، بلکہ نکاح کے انعقاد کے لیے شرعی طریقے کے مطابق گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کا ایجاب و قبول اور دیگر شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر کسی علاقے میں نکاح سے پہلے ہونے والی ایسی مجلس میں باقاعدہ نکاح کا ایجاب و قبول نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف دونوں خاندانوں کی موجودگی میں لڑکے اور لڑکی کے رشتے کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور یہ طے کیا جاتا ہے کہ فلاں لڑکی فلاں مرد کی ہوگی، تو یہ شرعی نکاح نہیں بلکہ منگنی اور وعدۂ نکاح ہے، اس سے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے میاں بیوی نہیں بنتے، بلکہ نکاح ہونے سے پہلے بدستور نامحرم رہتے ہیں؛ اس لیے ایسی مجلس پر نکاح کے احکام جاری نہیں ہوں گے،چنانچہ ایسی منگنی کے بعد لڑکے اور لڑکی دونوں کے درمیان میاں بیوی جیسے تعلقات قائم کرنا، تنہائی میں ملنا، بلا ضرورت ملاقاتیں کرنا اور آزادانہ گفتگو و میل جول رکھنا جائز نہیں۔ البتہ اگر منگنی کی مجلس ہی میں شرعی طریقے کے مطابق باقاعدہ نکاح کا ایجاب و قبول ہوجائے اور نکاح کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں تو وہ محض منگنی نہیں رہے گی بلکہ شرعی نکاح منعقد ہوجائے گا، اور اس کے بعد دونوں کے درمیان زوجیت کے احکام جاری ہوں گے، خواہ رخصتی بعد میں ہو۔
2۔ منگنی کے موقع پر لڑکے کی طرف سے روپے تقسیم کرنا اگر محض خوشی کے طور پر اپنی رضامندی سے بطورِ ہدیہ کیا جائے اور اسے لازم یا ضروری رسم نہ سمجھا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ لیکن اگر روپے تقسیم کرنا علاقے کی ایسی رسم بن چکا ہو جسے ضروری سمجھا جاتا ہو، یا اس کے بغیر منگنی کی تقریب کو ناقص سمجھا جاتا ہو، جس کی وجہ سے لڑکے پر روپیے تقسیم کرنے کا دباؤ ہو اور اسے نا چاہتے ہوئے بھی مجبورا روپے تقسیم کرنا پڑیں تو اس طرح روپے تقسیم کروانا اور وصول کرنا شرعا جائز نہیں ہوگا۔
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"قال علیه الصلوۃ والسلام: ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال امرئٍ الا بطیب نفس منه رواہ البیھقی فی شعب الایمان والدار قطنی."
ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ رہو کسی پر ظلم مت کرو کسی انسان کا مال اس کی رضاوخوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔‘‘
(کتاب البیوع،باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج:1، ص: 255، ط: قدیمی)
مجلۃ الاحکام العدلیۃمیں ہے:
"لا یجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص:27، ط:نور محمد)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وينعقد)ملتبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي)... ينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال، فالاول الامر (كزوجني)... والثاني المضارع المبدوء بهمزة أو نون أو تاء كتزوجيني نفسك إذا لم ينو الاستقبال،وكذا أنا متزوجك أو جئتك خاطبا لعدم جريان المساومة في النكاح ،أو هل أعطيتنيها أن المجلس للنكاح وإن للوعد فوعد.
(قوله: إذا لم ينو الاستقبال) أي الاستيعاد أي طلب الوعد وهذا قيد في الأخير فقط كما في البحر وغيره. وعبارة الفتح لما علمنا أن الملاحظة من جهة الشرع في ثبوت الانعقاد ولزوم حكمه جانب الرضا عدينا حكمه إلى كل لفظ يفيد ذلك بلا احتمال مساو للطرف الآخر فقلنا لو قال بالمضارع ذي الهمزة أتزوجك فقالت زوجت نفسي انعقد وفي المبدوء بالتاء تزوجني بنتك فقال فعلت عند عدم قصد الاستيعاد؛ لأنه يتحقق فيه هذا الاحتمال بخلاف الأول؛ لأنه لا يستخبر نفسه عن الوعد، وإذا كان كذلك والنكاح مما لا يجري فيه المساومة كان للتحقيق في الحال فانعقد به لا باعتبار وضعه للإنشاء، بل باعتبار استعماله في غرض تحقيقه، واستفادة الرضا منه حتى قلنا: لو صرح بالاستفهام اعتبر فهم الحال قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. اهـ."
(کتاب النکاح ،ج:3، ص:11،12، ط: سعید)
تنقيح الفتاوى الحامديۃ میں ہے:
"(سئل) فيما إذا خطب وكيل زيد ابنة عمرو البالغة لزيد بمحضر من الناس فأجابه الأب إلى ذلك قائلا أن مهر ابنتي كذا إن رضيت فبها وإلا فلا فرضي الخاطب ودفع للأب شيئا من الحلي وألبسه لابنته فلم ترض البنت بالخطبة وردتها فهل يسوغ لها ذلك ولا تكون الخطبة واقعة موقع عقد النكاح أصلا؟
(الجواب) : حيث لم يجر بينهما عقد نكاح شرعي بإيجاب وقبول شرعيين لا تكون الخطبة واقعة موقع عقد النكاح أصلا."
(كتاب النكاح،مسائل منثورہ من ابواب النکاح، ج:1، ص:31، ط: حقانیة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى۔"
(کتاب الحظر و الاباحة، ج:6، ص:369، ط:سعید)
کفایت المفتی میں ہے:
"منگنی کی جو مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں وہ صرف رشتہ اور ناطہ مقرر کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ اس میں جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں وہ وعدہ کی حد تک رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ منگنی کی مجلس کے بعد فریقین بھی اس کو نکاح قرار نہیں دیتے بلکہ اس کے بعد نکاح کی مجلس منعقد کی جاتی ہے اور نکاح پڑھایا جاتا ہے اس لئے ان مجالس کے الفاظ میں عرف یہی ہے کہ وہ بقصد وعدہ کہے جاتے ہیں نہ بقصد نکاح ۔ ورنہ نکاح کے بعد پھر مجلس نکاح منعقد کرنے کے لئے کوئی معنی نہیں ۔ نیز منگنی کی مجلس کے بعد منکوحہ سے اگر زوج تعلقات زن شوئی کا مطالبہ کرے تو کوئی بھی اس کے لئے آمادہ نہیں ہوتا بلکہ کہتے ہیں کہ نکاح تو ہوا ہی نہیں ۔ عورت کو مرد کے پاس کیسے بھیج دیا جائے، بہر حال منگنی کی مجلس وعدے کی مجلس ہے اس کے الفاظ سب وعدہ پر محمول ہوں گے ۔ کیونکہ عرف یہی ہے ۔ لہذا اس کو نکاح قرار دینا درست نہیں، البتہ اگر منگنی کی مجلس میں صریح لفظ نکاح استعمال کیا جائے ۔ مثلا ً زوج یا اس کا ولی یوں کہے کہ اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کر دو اور ولی زوجہ کہے کہ میں نے اپنی لڑکی کا نکاح تیرے ساتھ کر دیا تو نکاح ہوجائے گا ۔ لأن الصریح یفوق الدلالة."
(کتاب النکاح،ج:5،ص:49،ط:دارالاشاعت)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
"سوال :ہماری قوم میں یہ رواج ہے کہ بوقت منگنی لڑکی والا لڑکے والے سے مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں نے اپنی فلاں لڑکی تمہارے فلاں لڑکے کو دی لڑکے والا کہتا ہے کہ میں نے اپنے لڑکے کے واسطے قبول کی اس صورت میں نکاح ہو جاتا ہے یا نہیں بعض لوگ اس طرح منگنی کر کے لڑکی کو دور جگہ بیاہ دیتے ہیں۔
الجواب :منگنی کے وقت الفاظ مذکورہ کہنے سے نکاح منعقد نہیں ہو تا بلکہ یہ وعدہ نکاح ہے اور اس سےمنگنی ہوتی ہے جیسا کہ درمختار میں ہے: وان للوعد فوعد ."
(كتاب النكاح،پہلا باب، ج:7، ص:106، ط:دارالاشاعت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100012
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن