
ایک بندہ کے پاس کچھ رقم مثلا بیس لاکھ روپے تھی ، وہ اپنی اس رقم کو کسی پلاٹ کے خریدنے میں صرف کرتا ہے تاکہ یہ رقم فضول خرچی سے بچ جائے یعنی حفاظت کے لیے رکھتا ہے ،؛ پھر اس پر کئی سال گزرتے ہیں مثلا دس سال ، تو اب کوئی ضرورت پیش آجانے پر اس نے مذکورہ پلاٹ کو موجودہ قیمت 90 لاکھ روپے کی قیمت پر بیچا ، اور 90 لاکھ روپے قبضہ میں آگئے ۔
اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو کیوں ؟اگر زکوٰۃ واجب ہے تو زکوٰۃ کی ادائیگی 20 لاکھ روپے کے تناسب سے ہوگی یا 90 لاکھ روپے کے تناسب سے ؟او اس پر تمام سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی ہوگی ؟اور اگر زکوٰۃ کی ادائیگی پلاٹ کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے ہو تو اس کے لیے حولان حول ضروری تو نہیں ہے ؟
وضاحت : پلاٹ خریدتے وقت مذکورہ شخص کی نیت صرف رقم محفوظ کرنے کی تھی ، تجارت یا اس رقم پر نفع کمانے کی نیت نہیں تھی ۔
واضح رہے کہ سونا، چاندی اور نقدی کے علاوہ دیگر اموال (زمین، گھر ، فلیٹ ، دوکان وغیرہ) پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب کہ انہیں تجارت کی غرض سے خریدا جائےیعنی خریداری کے وقت ہی فروختگی کی نیت شامل ہو ، اگر کوئی چیز ذاتی ضرورت جیسے رہائش کی غرض سے یا کرایہ پر اٹھانے کی غرض سے یا دوکان میں خود کاروبار کرنے کی غرض سے کوئی جائیداد خریدی ہو ، تو ایسی جائیداد پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اگر پلاٹ پیسے محفوظ کرنے کی نیت سے خریدا تھا، پلاٹ خریدتے وقت تجارت کی نیت نہیں تھی، تو پھر اس پلاٹ پر زکوۃ واجب نہیں ہوئی، اور اس لیے گزشتہ دس سالوں کی کوئی زکوٰۃبھی مذکورہ شخص پر واجب نہیں ہے، البتہ اب چونکہ مذکورہ شخص نے پلاٹ 90 لاکھ روپے میں بیچ دیا ہے البتہ جب یہ پلاٹ 90 لاکھ میں فروخت کردیا، تو اب زکوۃ کا سال پورا ہونے پر صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکوۃ واجب ہوگی۔
نقد رقم پر زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے "حولانِ حول" (ملکیت میں ایک سال تک رہنا) شرط ہے؛ اس لیے اگر مذکورہ شخص پہلے سے صاحب نصاب تھا، تو اس کی زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے پر 90 لاکھ روپے یا جو موجود ہو اس کو اموال زکوة میں شامل کرنا لازم ہوگا، اور کل مجموعہ کا چالیسواں حصہ زکوة کے طور پر ادا کرنا ضروری ہوگا، اس صورت میں 90 لاکھ روپے پر الگ سے سال گزرنا شرط نہیں ہے،اور اگر مذکورہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں تھا ، تو جس روز 90 لاکھ روپے میں پلاٹ کا سودا ہوا ہے، اس تاریخ سے مذکورہ شخص صاحب نصاب شمار ہوگا، اور سال مکمل ہونے پر مذکورہ رقم پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی، بشرطیکہ کے مذکورہ رقم سال کے دوران ذاتی ضروریات میں صرف نہ کردے۔
پس ایک قمری سال گزرنے کے بعد اگر یہ رقم (یا اس کا بقیہ حصہ جو نصاب سے کم نہ ہو) اس کے پاس موجود رہا، تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب)".
(کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج:2، ص:298، ط:سعيد)
وفیہ ایضا :
"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل".
(کتاب الزکوٰۃ، باب السائمہ، ص:128، دارالکتب العلمیہ)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات.....إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب."
(کتاب الزکاۃ، الباب الثالث،الفصل الثانی فی العروض،ج:1، ص:179، ط:رشیدیة)
وفیه أیضاً:
"ومن کان له نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالاً من جنسه، ضمه إلی ماله وزکاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا، وبأي وجه استفاد ضمه ..." الخ
( کتاب الزکاة، ج: 1، ص: 175، ط: رشیدیة)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وإذا كان النصاب كاملا في أول الحول وآخره فالزكاة واجبة، وإن انتقص فيما بين ذلك وقتا طويلا ما لم ينقطع أصله من يده."
(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 172، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100010
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن