بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

سال گرہ پر کیک کاٹنے کا کیا حکم ہے؟


سوال

سال گرہ پر کیک کاٹنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 واضح  رہے کہ  اسلام میں برتھ  ڈے  (سال گرہ)  منانے کا شرعاً  کوئی ثبوت نہیں ملتا، بلکہ  یہ موجودہ  زمانہ   میں  اَغیار  (عیسائیوں)  کی طرف سے آئی ہوئی ایک رسم ہے،  جس میں عموماً طرح طرح کی خرافات شامل ہوتی ہیں، مثلاً: مخصوص لباس  پہننا، موم  بتیاں  لگاکر  کیک  کاٹنا، موسیقی  اور  مرد وزن کی مخلوط محفلیں ، تصویر کشی اور پھر غیر اقوام کی نقالی کرنا، اور یہ سب امور چوں کہ ناجائز ہیں،  لہذا مروجہ طریقہ پر برتھ ڈے( سال گرہ) منانا شرعًا  جائز نہیں۔

البتہ اگر اس طرح کوئی خرافات نہ ہوں اور نہ ہی کفار کی مشابہت مقصود ہو، بلکہ  گھر والے بطور شکرانہ اس دن کو یاد رکھیں اور  رب کے حضور اس بات کا شکرادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے عافیت وصحت اور عبادات کی توفیق کے ساتھ زندگی کا ایک سال مکمل فرمایا ہے، اور منکرات سے بچتے ہوئے گھر میں عمدہ کھانے وغیرہ کا اہتمام کرلیں اور کیک کھائیں، اور کیک کاٹتے ہوئے اس کی بے حرمتی نہ کریں، جیسا کہ کیک گرانا، منہ پر ملنا، ضائع کرنا وغیرہ تو اس کی گنجائش ہوگی، تاہم احتیاط بہتر ہے۔

موسوعة الفقه الإسلامي میں ہے:

"القاعدة التاسعة: الأصل في الأشياء الإباحة.فكل ما خلق الله الأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد دليل يحرمه.

وكل ما صنع الإنسان من الآلات والأجهزة فالأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد فيه دليل يحرمه.

فالأصل الإباحة في كل شيء، والتحريم مستثنى."

(القاعدة التاسعة، ج:2، ص:293، ط:بيت الأفكار الدولية)

فقط والله أعلم 


فتویٰ نمبر : 144802102342

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں