
میرے والد صاحب کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں میری ایک سوتیلی والدہ جن سے کوئی اولاد نہیں ہے، چار بیٹے، اور ایک بیٹی ہیں، والدین کاپہلے انتقال ہوچکاہے، میری سوتیلی والدہ مرحوم والدسے ایک گھر کا مطالبہ کررہی تھیں، ان کے اس مطالبہ کے پیش نظر میرے والد صاحب نے ان کے نام ایک اسٹامپ پیپر تیار کروایاتھا، جو سوال کے ساتھ منسلک ہے، واضح رہے کہ گھر والد صاحب کا تھا لیکن والد صاحب کے نام نہیں تھابلکہ بلڈر کے نام پر تھا اور اب بھی بلڈر کے نام ہے، والد صاحب نے نہ میری سوتیلی والدہ کے نام کروایا تھا اورنہ ہی مکمل اختیارات وقبضہ دیاتھا، گھر کرایہ پر تھا میں مرحوم والد کے حکم پر کرایہ وصول کرتا تھا، پھروالد صاحب کو دیتاتھا، والد مرحوم کرایہ رہائشی گھر کے اخراجات میں خرچ کرتے تھے، والدہ کو نہیں دیتے تھے کرایہ دار کے ساتھ جوکرایہ کا ایگریمنٹ ہواتھا، اس میں بھی والدمرحوم کا نام ہے،ابھی والدہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کے والد نے مجھے یہ گھر گفٹ کیا ہے لہذا یہ گھر میرا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے اسٹامپ پیپر کی وجہ سے والدہ گھر کی مالکہ بن گئیں یا نہیں؟ جبکہ والد صاحب نے نہ اختیارات دیاتھا اور نہ قبضہ، یاگھر طور میراث تقسیم ہوگا؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ بیان کے مطابق گھر والد مرحوم کی ملکیت ہے، بطور میراث والد مرحوم کے ورثاء میں تقسیم ہوگا ، والد مرحوم کا صرف اپنی بیوی (سائل کاسوتیلی والدہ) کے نام پر اسٹامپ پیپر بنانے سے شرعا بیوی مالک نہیں بنی، بلکہ شرعا ملکیت کےلیے مکمل تصرفات کے ساتھ قبضہ دینا ضروری تھا، جو کہ والدمرحوم نے نہیں دیاتھا، لہذا گھر ورثاءمیں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔
مرحوم والد کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہےکہ مرحوم کےترکہ میں سے سب سےپہلے مرحوم کےحقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم پر قرض ہو تو کل مال سے اس کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کے تہائی میں اسے نافذ کرنے کا بعد مرحوم کے منقولہ و غیر منقولہ سارا ترکہ کو 72 حصوں میں تقسیم کرکے 9حصے مرحوم کی بیوہ (یعنی سائل کی سوتیلی والدہ)کو، 14حصے مرحوم کے ہر بیٹے کو، 7 حصے مرحوم کی بیٹی کوملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت: (مرحوم والد): 72/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 1 | 7 | ||||
| 9 | 14 | 14 | 14 | 114 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے12.5فیصدمرحوم والد کی بیوہ (یعنی سائل کی سوتیلی والدہ) کو، 19.444فیصد مرحوم کے ہر بیٹے کو، 9.722فیصد مرحوم والد کی بیٹی کو ملے گا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة."
” حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔“
(كتاب الفرائض، باب الوصايا، ج: 2، ص: 926، ط: المکتب الإسلامي)
الدرالمختار میں ہے:
"(يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة أو الإجماع."
(كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 761، ط، ایچ ایم سعید)
وفیه أیضا:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية وفي الأشباه: هبة المشغول لا تجوز."
(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802102329
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن