بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کا اپنا مکان ایک بیٹے کو ہبہ کرنا اور باقیوں کو محروم کرنا


سوال

میرا ایک مکان ہے، جس کو میں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کو ہبہ ( گفٹ ) کے طور پر دینا چاہتا ہوں، تو کیا میں اپنے اس ایک بیٹے کو یہ مکان ہبہ کے طور پر دے سکتا ہوں ؟ میرا ایک بیٹا ، دو بیٹیاں اور بیوی بھی حیات ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک  ومختار ہوتا ہے، وہ اس میں ہر جائز تصرف  کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں  ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے ،نیز والد کی زندگی میں اس کی جائیداد میں اولاد وغیرہ کا    کوئی حق  و حصہ  نہیں  ہوتا،  اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق ہے،  تاہم   اگر صاحبِ جائیداد اپنی  زندگی میں  اپنی جائیداد  خوشی  ورضا سے   اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے  وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ہے، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہما کی  روایت میں ہے:

"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلامًا، فقال: «أكلّ ولدك نحلت مثله؟» قال: لا، قال: «فأرجعه». وفي رواية ... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".

(مشکوٰۃ  المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط؛ قدیمی)

ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیرکے بارے  منقول ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر ) انہیں  رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط؛ دارالاشاعت)

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنا مکان صرف بیٹے کو دینا اور بیٹیوں اور بیوی کو محروم کرنا شرعاً جائز نہیں ، شرعی اعتبار سے یہ تقسیم غیر منصفانہ ہوگی، اس لیے سائل کے لیے ایسا کرنا درست نہیں، سائل اگر  اپنی خوشی سے مکان تقسیم کرنا چاہتا ہے، اور اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مکان فروخت کر کے اس رقم میں سے    سب سے پہلے سائل اپنے لیے جتنی رقم رکھنا چاہے رکھ لے؛ تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے،  پھر بیوی کو جتنا دینا چاہے دے دے،اور اس کے بعد بقیہ تمام جائیداد اپنی تمام اولاد میں برابر سرابر تقسیم کر دے، یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی ہر ایک بیٹی کو بھی دے،  نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا، اور اس صورت میں ایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ کہلائے گی۔( البتہ  بیٹے یا  کسی بیٹی کو  کسی معقول وجہ کی بنا پر  دوسروں کی بنسبت   کچھ زیادہ  دینا چاہے تو دےسکتا ہے،  یعنی کسی کی شرافت ودِین داری یا غریب ہونے کی بنا پر  یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو  دوسری اولاد کی بنسبت کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کی اجازت ہے، لیکن ایک ہی کو سب دے کر باقیوں کو محروم کرنا جائز نہیں۔)  

شرح المجلۃ میں ہے:

"لایجوز لأحد  أن یاخذ  مال أحد  بلا سبب شرعي."

 (1/264،  مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے: 

"وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى."

 (5/696، کتاب الھبۃ، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين."

 (7/288، کتاب الھبۃ، ط: رشیدیہ)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."

(4/378،  الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ وما لا یجوز، ط: رشیدیہ)

وفیہ ایضا:

"ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لاينفرد الواهب بالرجوع، بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم."

 (4/385، الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ ،  ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802102325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں