بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الاول 1448ھ 12 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تین مرتبہ کہنا


سوال

ہم دونوں میاں بیوی کے بیچ میں جھگڑا ہوا اور اکثر ہوتا ہی تھا، چار  گواہوں  کے بیچ میں میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں، اب یہ بتائیں کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں، انہوں نے مجھے یہ کہا :"میں تجھے طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ یہ  الفاظ کہے  ہیں اور مجھے والدین کے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اب ہمارے لیے شرعی  کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ   سائلہ کے شوہر نے سائلہ سے   تین دفعہ  یہ جملہ  کہا ہے کہ: "میں تجھے طلاق دیتا ہوں" تو اس سے سائلہ  پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،زوجین میں  نکاح ختم ہوچکا ہے،  سائلہ اپنے شوہر   پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب  شوہر کے لیے   رجوع کرنے  کی یا اس کے  ساتھ نکاح کی شرعًا اجازت نہیں ہے،سائلہ  کے لیے  اپنی  عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور ماہواری  آتی ہو، اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ)گزار کر  کسی اور جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز ہوگا  ۔

بدائع  الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ... سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها."

(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط: رشیدیه)

فقط واللہ علم


فتویٰ نمبر : 144802102309

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں