
ہمارے علاقے میں یہ رواج ہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے اہلِ خانہ جنازے اور تدفین کے لیے آنے والے لوگوں کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بعض اوقات گائے، بھینس وغیرہ ذبح کرکے بڑی تعداد میں لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ یہ کھانا تدفین سے پہلے یا تدفین کے بعد، عموماً وفات کے پہلے تین دنوں کے اندر کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ہمارا علاقہ پہاڑی اور دیہی ہے، لوگ دور دراز علاقوں سے جنازے میں شرکت کے لیے آتے ہیں، وہاں ہوٹل، کینٹین یا کھانے کا کوئی باقاعدہ انتظام موجود نہیں ہوتا، اور نہ ہی عموماً پڑوسیوں کی طرف سے مہمانوں کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے جنازے میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کے کھانے کا انتظام کرنا ایک عملی ضرورت بن جاتا ہے۔
دریں صورت دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اہلِ میت کا مذکورہ طریقے سے جنازے اور تدفین کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا، خصوصاً وفات کے پہلے تین دنوں کے اندر، شرعاً جائز ہے؟ اور کیا مذکورہ علاقے کے مخصوص حالات کی وجہ سے اس کی گنجائش ہوگی یا اسے رسمِ سوگ اور خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے ترک کرنا ضروری ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں میت کے اہلِ خانہ کی طرف سے عام لوگوں اور اہلِ علاقہ کے لیے بطورِ دعوت کھانے کا اہتمام کرنا درست نہیں، بلکہ خلافِ سنت اور مکروہ ہے، کیونکہ سنت یہ ہے کہ میت کے اہلِ خانہ کے لیے پڑوسی اور رشتہ دار کھانے کا انتظام کریں۔
البتہ اگر دور دراز علاقوں سے لوگ جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہوں اور ان کے لیے واپس جانا ممکن نہ ہو، نیز ہوٹل، کینٹین یا پڑوسیوں وغیرہ کی طرف سے کھانے کا کوئی دوسرا انتظام بھی موجود نہ ہو، تو ان کی حقیقی ضرورت کے پیشِ نظر اہلِ میت کی طرف سے بقدرِ ضرورت کھانے کا انتظام کرنے کی گنجائش ہے۔ لہٰذا سوال میں مذکور پہاڑی اور دیہی علاقے کے مخصوص حالات میں ایسے لوگوں کے لیے کھانا تیار کرکے کھلانا ناجائز نہیں ہوگا، خواہ یہ تدفین سے پہلے یا بعد میں اور پہلے تین دنوں کے اندر ہو۔
البتہ اس کھانے کو باقاعدہ رسم، لازم یا مسنون طریقہ نہ سمجھا جائے، اور نہ ہی تمام حاضرین اور اہلِ علاقہ کے لیے بطورِ دعوت بڑی مقدار میں کھانے کا اہتمام کیا جائے؛ بلکہ صرف ضرورت مند اور دور سے آنے والے افراد کی ضرورت کے بقدر انتظام کیا جائے۔ گائے یا بھینس وغیرہ ذبح کرکے عام دعوت کا اہتمام کرنے کے بجائے بھی اسی ضرورت کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
صحيح البخاري میں ہے :
"عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، أنها كانت إذا مات الميت من أهلها، فاجتمع لذلك النساء ثم تفرقن إلا أهلها وخاصتها - أمرت ببرمة من تلبينة فطبخت، ثم صنع ثريد فصبت التلبينة عليها، ثم قالت: كلن منها؛ فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "التلبينة مجمة لفؤاد المريض، تذهب ببعض الحزن."
(كتاب الأطعمة،باب التلبينة،ج:7،ص:211،ط:دار التأصيل)
ترجمہ: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں ، صرف گھروالے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں "تلبینہ " پکانے کا حکم دیتیں ، وہ پکایا جاتا، پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا ، پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ ،کیوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے ۔“
سنن أبي داود میں ہے :
"عن عبد الله بن جعفر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اصنعوا لأل جعفر طعاما، فإنه قد أتاهم أمر يشغلهم."
(كتاب الجنائز،باب صنعة الطعام لأهل الميت،ج:5،ص؛52،ط:دار الرسالة)
ترجمہ:” جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تيار کرو؛ کیوں کہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔“
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802102287
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن