
اگر کوئی شخص اپنی خود کی تصویر سے اے آئی کے ذریعے اسلامک ویڈیو بنائے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ مثلاً کوئی شخص اپنے موبائل سے اپنی تصویر کھینچے، پھر اے آئی کی مدد سے اس تصویر کو حرکت دے کر ویڈیو میں تبدیل کرے، جس میں تصویر بولتی ہوئی نظر آئے اور آواز بھی اے آئی کی بنائی ہوئی ہو، یعنی اصل شخص کی آواز نہ ہو۔ اگر اس ویڈیو میں قرآنِ کریم کی آیات، احادیث، اسلامی باتیں، دینی نصیحت یا دیگر اسلامی مواد بیان کیا جائے، تو کیا اس طرح اپنی تصویر کو اے آئی کے ذریعے حرکت دے کر بولتی ہوئی ویڈیو بنانا اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز ہے؟
واضح رہے کہ جان دار کی تصویر اور ویڈیو بنانا ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے،چاہے وہ ہاتھ سے بنائی جائے یا کسی آلہ کی مدد سے بنائی جائے، موبائل کے کیمرے سے بنائی جائے یا اے ائی کے ذریعہ بنائی جائے ،بہر صورت جاندار کی تصویر اور ویڈیوبنانا جائز نہیں ہے۔
احادیث میں تصویر سازوں کے بارے میں سخت وعیدیں وار د ہوئی ہیں، ایک حدیثِ مبارکہ میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔ دوسری حدیث مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جان دار کی تصویر بنانے والے کو قیامت کے دن حکم دیا جائے گا اس تصویر میں روح ڈالے اور وہ ایسا نہیں کرسکے گا، پھر اس شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک اور حدیثِ مبارک میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ جس گھر میں جان دار کی تصویر یا کتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لئے موبائل سے اپنی تصویر کھینچنا اور پھر اے آئی کی مدد سے اس تصویر کو ویڈیو میں تبدیل کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
"وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله."
(مشكاة المصابيح، ج، 2، صفحة: 518، رقم الحدیث: 4495، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
"ترجمہ: حضرت عائشہ ؓ ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔"
(مظاہر حق جدید ، ج: 4، صفحہ: 229، ط: دارالاشاعت)
"عن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذاباً عند الله المصورون."
(مشكاة المصابيح،ج: 2، صفحه: 519، رقم الحدیث:4497، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت ترین عذاب کا مستوجب، مصور (تصویر بنانے والا)ہے“۔
(مظاہر حق جدید، ج: 4، صفحہ: 230، ط: دارالاشاعت)
"عن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم".
(مشكاة المصابيح،ج: 2، صفحة: 519، رقم الحدیث:4497، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
"ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ” ہر مصور دوزخ میں ڈالا جائے گا، اور اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک شخص پیدا کیا جائے گا جو تصویر بنانے والے کو دوزخ میں عذاب دیتا رہے گا۔"
(مظاہر حق جدید، ج: 4، صفحہ: 230، ط: دارالاشاعت)
البحر الرائق میں ہے :
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال: قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه - صلى الله عليه وسلم - «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها اهـ.فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره."
(باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا ،ج:2،ص:29،دارالکتاب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802102282
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن