بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1448ھ 01 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مشروط طور پر بیچے گئے سامان کا حکم اور اس میں اقالہ اور بیع جدید کرنا


سوال

ابو محمد کراچی کا رہائشی ہے، اور کپڑوں کا کاروبار کرتا ہے، وہ قطر گیا اور تاجروں سے ملاقات کی، عمر تاجر نے اس سے وقت لیا، اور ابو محمد نے اسے سیمپل دکھائے، اور اپنے مال کی تفصیل بتائی، تو عمر کو اس کا مال پسند آیا، عمر کی قطر میں سپر مارکیٹ ہے، اس نے ابو محمد سے کہا کہ مجھے تھانوں کی صورت میں کپڑے نہیں چاہیں بلکہ پیکنگ میں چاہیں، دونوں کے درمیان بیع  ہوئی، اور عمر نے ابو محمد سے مال منگوالیا، اور عمر نے کہا کہ کراچی میں یاسین نامی شخص کو میرا مال حوالے کردو، ابو محمد عمر کے کہنے پر الگ الگ پیکنگ میں کپڑے پیک کرکے یاسین کو دیتا رہا، اور یاسین عمر کو پہنچاتا رہا، اور آخر میں ابو محمد نے یاسین کو بل بھی دے دیا، اس کے بعد ابو محمد کا عمر سے رابطہ ہوا، تو عمر نے  کہا کہ مال ٹھیک ہے، تو ابو محمد نے پیسوں کا مطالبہ کیا، جس پر عمر نے کہا کہ دے دوں گا۔ 

اسی طرح عمر کی طرف سے ٹال مٹول چلتی رہی، آخر کار عمر نے ابو محمد کے لیے ڈھائی لاکھ روپے بھیجے، اور کہا کہ آپ کے مال میں سے اتنے ہی رقم کا مال بک چکا ہے، اور باقی مال میرے پاس ہے وہ قطر سے ہی وصول کرلو، حالانکہ بیع کے دوران اس بات کا تذکرہ ہوا ہی نہیں تھا کہ جتنا مال بکے گا اس کے علاوہ واپس ہوگا، بلکہ تمام بھیجا ہوا مال بیچ دیا گیا تھا، اس پر مجلس بیع میں تین افراد موجود بھی تھے، اور ان کا بھی یہی بیان ہے کہ مال پورا بیچا گیا تھا، وہ تین افراد :  عبداللہ، احمد، رضا ہیں، اور یسین جو کہ عمر کا وکیل تھاوہ بھی اس بات کا اقرار کررہا ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ مال بیچا گیا ہو اور پھر یہ کہا جائے کہ یہ میں نے نہیں لیا، بلکہ عمر نے مجھ سے خود کہا تھا کہ میرا مال ابو محمد سے لے لو، اور اگر مال واپس بھی کرنا ہو اور اقالہ کی صورت اپنا ئی جائے تو عمر کراچی تک مال پہنچائے، پھر اس کے بعد ابو محمد وہاں سے لے لے گا۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا عمر کا مذکورہ دعوی کرنا درست ہے؟ اور کیا مذکورہ بیع میں مکمل مال کی بیع شمار ہوگی یا صرف بک جانے والے مال کی؟ نیز عمر کا یہ کہنا کہ مال قطر سے لے لوشرعاً درست ہے؟ اور کیا ابو محمد کے لیے  قطر سے اپنا مال وصول کرنا شرعاً لازم ہوگا؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعی مذکورہ معاملہ بیع کے بعد ابو محمد نے غیر مشروط طور پر تمام  مبیع( سامان)  عمر کو بھیج دی تھی، اور عمر نے اس پر قبضہ بھی کرلیا تھا، تو ایسی صورت میں وہ تمام سامان جو ابو محمد عمر کو بیچ چکا ہے، وہ عمر ہی کی ملکیت شمار ہوگا، اور عمر کا یہ کہنا کہ" بقیہ تمام مال ابو محمد واپس لے لے" شرعاً درست نہیں ہے، اور نہ ہی ابو محمد کے ذمہ شرعاً لازم ہوگا کہ بقیہ مال عمر سے واپس لے لے، تاہم اگر ابو محمد اقالہ کرنا چاہے اس طرح کہ جتنا مال اس وقت موجود ہےتو جتنی رقم میں وہ مال فروخت کیا تھااس رقم کے مطابق بقایا مال میں بیع فسخ( ختم) کرلے، تو اب معاملہ شرعاً درست ہوگا، لیکن ایسی صورت میں ابو محمد کے ذمہ لازم ہوگا کہ وہ بقیہ مال اپنے خرچہ سے قطر سے لے لے،اس صورت میں ابو محمد کا عمر کو بقیہ مال کراچی پہنچانے کا پابند بنانا شرعاً درست نہیں ہے۔ 

نیز اگر ابو محمد اقالہ کی صورت میں مال کی واپسی پر لازم ہونے والے خرچہ سے بچنا چاہے، تو ایسی صورت میں ابو محمد کو اختیار ہوگا کہ اگر چاہے تو مذکورہ بقیہ مال میں خریدار( عمر) کے ساتھ نئے سرے سے خرید و فروخت کا معاملہ کرلے، اور ایسی صورت میں قطر سے سامان بھیجنے کی ذمہ داری شرعاً بائع( عمر) کے ذمہ ہوگی۔ 

درر الحکام میں ہے: 

"(المادة 369) حكم البيع المنعقد الملكية يعني صيرورة المشتري مالكا للمبيع والبائع مالكا للثمن أي أن الحكم الأصلي لأنواع البيع الأربعة المذكورة في المادة 106 ملكية البدلين.....والحاصل أن المشتري يملك المبيع والبائع يملك الثمن مالا في البيع البات وبعد الإجازة في البيع الموقوف أي أن ملكية المبيع تنتقل للمشتري، وملكية الثمن تنتقل للبائع كما سيبين في المادة (1247) وسواء ذكر في العقد تملك البائع للثمن والمشتري للمبيع، أو لم يذكر؛ لأن النص على المقتضى بعد حصول الموجب ليس بشرط كما هو صريح القاعدة الفقهية أي أنه إذا كان شيء موجبا لآخر؛ فلا يلزم التصريح بما يترتب عليه تخصيص؛ لأن حصوله لازم."

(كتاب البیوع، الباب السابع في أنواع البيع و أحكامه، ج: 1، ص: 393، ط: دار عالم الکتب)

وفیہ أیضاً: 

"المصارف المتعلقة بتسلم المبيع تلزم البائع وحده مثلا أجرة الكيال للمكيلات والوزان للموزونات المبيعة تلزم البائع وحده. هذا في المكيلات والمعدودات والمذروعات والموزونات التي لم تبع جزافا فهذه المصارف تلزم البائع لأن الكيل والعد والذرع والوزن من متممات تسليم المبيع ولما كان تسليم المبيع لازما له فيلزمه ما يتم به نفقة ما يكون به تسليم المبيع لازمة له فإذا باع شخص حمل سفينة حطبا كل قنطار بعشرين قرشا فأجرة تسليم القنطار تلزم البائع إلا أن العمل في زماننا جار على أخذ الأجرة من المشتري حسب النظام المخصوص وكذلك أجرة إفراغ الحنطة في الأعدال (الأكياس) تعود على البائع وكذلك إذ اشترى ماء من السقاء بالقربة فصب الماء في إناء المشتري يعود على البائع."

(كتاب البیوع، الباب الخامس، الفصل الرابع في مؤنة التسليم، ج: 1، ص: 271، ط: دار عالم الکتب)

بدائع الصنائع میں ہے: 

"حكم البيع نوعان، نوع يرتفع بالفسخ.....ونوع لا يرتفع إلا بإقالة وهو حكم كل بيع لازم وهو البيع الصحيح الخالي عن الخيار."

(كتاب البيوع، فصل في بيان ما يرفع حكم البيع، ج: 5، ص: 306، ط: ایچ ایم سعید)

فتح القدیر میں ہے: 

"(قال وهلاك الثمن لا يمنع صحة الإقالة وهلاك المبيع يمنع منها)؛ لأن رفع البيع يستدعي قيامه وهو قائم بالبيع دون الثمن(فإن هلك بعض المبيع جازت الإقالة في الباقي)؛ لقيام البيع فيه." 

(كتاب البیوع، باب الإقالة، ج: 6، ص: 454/453، ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"اشترى شيئا له حمل ومؤنة ونقله إلى موضع آخر ثم تقايلا فمؤنة الرد على البائع."

(کتاب البیوع، الباب الثالث عشر في الإقالة، ج: 3، ص: 166، ط: دار الکتب العلمیة)

وفیہ أیضاً: 

"وشرط صحة الإقالة رضا المتقائلين والمجلس وتقابض بدل الصرف في إقالته وأن يكون المبيع محل الفسخ بسائر أسباب الفسخ كالرد بخيار الشرط والرؤية والعيب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - فإن لم يكن بأن ازداد زيادة تمنع الفسخ بهذه الأسباب لا تصح عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقيام المبيع وقت الإقالة فإن كان هالكا وقت الإقالة لم تصح وأما قيام الثمن وقت الإقالة فليس بشرط."

(کتاب البیوع، الباب الثالث عشر في الإقالة، ج: 3، ص: 164، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144802102275

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں