
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے، والدہ حیات ہیں، والدہ صاحبہ کا ایک ذاتی گھر ہے اور والدہ اس گھر کو اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتی ہیں، ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں، براہِ کرم تقسیم کا شرعی طریقہ بتادیں۔
واضح رہے کہ میراث کی تقسیم کا مسئلہ انتقال کے بعد جاری ہوتا ہے اور وہ اس وقت موجود شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوتا ہے، اس لیے آپ کی والدہ کی زندگی میں کسی کو ان سے ان کے مملوکہ گھر کی تقسیم کرنے کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، اور ان پر بھی زندگی میں اپنی مملوکہ جائے داد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا لازم نہیں ہے،زندگی میں اپنی جائےداد کو اولاد کے درمیان تقسیم کرنے کی حیثیت ہبہ اور تحفہ کی ہے اور وہ ان کی مرضی پر موقوف ہے، لہٰذا اگر آپ کی والدہ اپنی رضامندی سے اپنی زندگی میں ہی اپنی مملوکہ جائے داد (ذاتی گھر) اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں تو شرعاً اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی مملوکہ جائے داد میں سے اپنے لیے جتنا حصہ رکھنا چاہیں اتنا رکھ لیں کہ خدانخواستہ شدید ضرورت کے وقت محتاجی نہ ہو،اس کے بعد باقی جائے داد/ رقم اپنے تمام بیٹوں اور بیٹی کے درمیان برابر ،برابر تقسیم کردیں، بلاوجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دیں؛ کیوں کہ ہبہ (تحفہ) کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کی ہدایت یہ ہے کہ تمام بیٹے اور بیٹیوں میں برابری رکھی جائے، بلاوجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دینے سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے۔ البتہ اگر کسی بیٹے یا بیٹی کو زیادہ دِین دار یا خدمت گزار یا ضرورت مند ہونے کی وجہ سے دیگر کے مقابلے میں کچھ زائد دینا چاہے تو اس کی گنجائش ہے۔ نیزجائے داد تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ ایسا قبضہ دے دیا جائے کہ اس کو اس میں تصرف کرنے کا پورا اختیار ہو، ورنہ صرف نام کرنے سے شرعاً ہبہ معتبر نہیں ہوگا، لہٰذااگر آپ کی والدہ نے زندگی میں اپنی مملوکہ جائے داد بچوں میں تقسیم کر کے باقاعدہ قبضہ نہیں دیا تو ان کے انتقال کے بعد ان کی یہ مملوکہ جائے داد ان کا ترکہ شمار ہوگی اور اس وقت موجود تمام ورثا کے درمیان میراث کے ضابطہ شرعی کے مطابق تقسیم ہوگی۔
حدیث شریف میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»."
(مشکاۃ المصابیح ،باب العطایا،ج:1، ص:261، ط:قدیمی)
ترجمہ:"حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا: ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ... آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"
(مظاہر حق، باب العطایا،ج:3،ص:193، ط: دارالاشاعت)
فتاوی شامی میں ہے :
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلا تنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لا يعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ."
(کتاب الوقف،ج:4، ص:444، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."
(كتاب الفرائض،ج:6، ص:758، ط:سعید)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4، ص:376، ط: رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802102268
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن