
میں ایک ادارے میں کام کرتاہوں، جب مجھے نوکری پر رکھا گیا تو یہ کہا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کے دن چھٹی ہوگی ، پھر کچھ عرصہ تقریباً دو ماہ بعد یہ کہہ دیا گیا کہ اب ہفتہ کے دن بھی کام پر آنا ہوگا اور ہفتہ کا دن بھی کام کا دن شمار کیا جائے گا۔چنانچہ میری تنخواہ جب طے ہوئی تھی تو اُس وقت ایامِ کار میں مہینے کے چار ہفتہ کے ایام شامل نہیں تھے، اب ہفتہ کے دن ایامِ کار میں شامل کیے گئے ہیں، تو کیا میں ادارہ انتظامیہ سے اِن چار ایام کے عوض تنخواہ میں اضافہ کا مطالبہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟یہ واضح رہے کہ میری تنخواہ دنوں کے اعتبار سے طے نہیں کی گئی تھی بلکہ ماہانہ اعتبار سے طے ہوئی تھی، البتہ یہ کہا گیا تھا کہ ہر ہفتہ اتوار کو چھٹی ہوا کرے گی، اب ادارے نے اپنے طور پر ہفتہ کی چھٹی ختم کردی ہے۔
بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ ادارے کے ساتھ ملازمت کے معاہدہ کے وقت واقعتًا ادارے کی انتظامیہ نے ہفتہ اور اتوار کو چھٹی کے ایام قرار دیا تھا،اور بقیہ ایام آپ کی ڈیوٹی اور کام کے لیے مختص کیے تھے، تو اب ادارے کی انتظامیہ کا اپنے طور پر ہفتہ کے دن کو ایامِ کار میں شامل کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ شرعی نقطۂ نظر سے ملازمت کا معاہدہ ”عقدِ اجارہ“ کہلاتا ہے، اور ملازم اور انتظامیہ کی باہمی رضامندی سےجن شرائط و ضوابط پر یہ معاہدہ ہوا ہو، اُن کی پاس داری کرنا فریقین پر لازم ہے، لہذا چونکہ ڈیوٹی کے اوقات و ایام اور چھٹی کے اوقات و ایام صراحت کے ساتھ طے پائے ہیں تو اس کا لحاظ رکھنا فریقین پر لازم ہے، چنانچہ آپ ہفتہ کے دن کو ایامِ کار میں شامل کرنے کے عوض ادارے کی انتظامیہ سے تنخواہ میں اضافہ کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
سنن الدار القطنی میں ہے:
"عن أنس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: المسلمون على شروطهم ما وافق الحق من ذلك."
(کتاب البیوع، ج:3، ص:427، ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)
ترجمہ:”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہتے ہیں، بشرطیکہ وہ شرطیں حق (یعنی شریعت) کے موافق ہوں۔“
دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"يصح إيجار الشهر بكذا قروشا بدون بيان أجرة كل يوم."
(كتاب الإجارة، ج:1، ص:562، ط:دار الجيل)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل)."
(کتاب الإجارہ، باب ضمان الأجیر، مبحث الأجیر الخاص، ج:6، ص:69، ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144802102263
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن